تاریخ شائع کریں۶ آبان ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۵۸
خبر کا کوڈ : 480079

اقوام متحدہ سے امریکہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ :وزیر خارجہ ایران

در حقیقت جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور اب طریقہ بدلنے کا وقت آ گیا ہے امریکیوں کے خون اور دولت اور دنیا کو مزید بدحالی سے بچائیے۔
اقوام متحدہ سے امریکہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ :وزیر خارجہ ایران
ایران کے وزیر خارجہ نے رواداری اور افہام و تفہیم کو امریکی غنڈہ گردی کے فروغ کی وجہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے امریکہ کی یکطرفہ اور جنگ پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے پیر کے روز اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی تقریب کے موقع پر  کہا کہ 75 سال پہلے اقوام متحدہ کا قیام دو خوفناک جنگوں کے بعد بین الاقوامی امن و سلامتی کی بحالی کے لئے عمل میں آیا تھا تاہم اب ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اس میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق سن 2001 کے بعد سے، جو اتفاق سے اقوام متحدہ کے مکالمے کا سال تھا، امریکہ کی  مستقل جنگوں  کے نتیجے میں 37 ملین افراد بے گھر ہوئے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 2001 میں امریکہ نے 8 پرتشدد جنگیں شروع کیں یا ان میں شامل ہوا جن کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کا نام دیا گیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں، لاتعداد برادری اور کنبے منتشر ہوگئے اور ساتھ ہی حکومتوں کی ناکامی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگیا۔ 

محمد جواد ظریف نے کہا کہ آج  ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہماری دنیا 1945 کی نسبت زیادہ محفوظ ہے یا کم محفوظ ہے؟ ہم کیسے ایک ایسے غنڈے اور اس کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی تذلیل سے نپٹ سکتے ہیں جو صرف تکبر سے بات کرنے اور طاقت کا غلط استعمال کرنے کا عادی ہو گیا ہے۔

 ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس ملک پر کیسے قابو پا سکتے ہیں جس نے اپنی 244 سالہ تاریخ کے 220 برس جنگ میں گزارے اور صرف 1945 کے بعد سے ہی، 39 فوجی جنگیں اور 120 اقتصادی جنگیں کیں؟ محمد جواد ظریف نے کہا کہ در حقیقت جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور اب طریقہ بدلنے کا وقت آ گیا ہے امریکیوں کے خون اور دولت اور دنیا کو مزید بدحالی سے بچائیے۔
http://www.taghribnews.com/vdchqvnkw23n6vd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس