تاریخ شائع کریں۶ آبان ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۴۸
خبر کا کوڈ : 480078

کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے اور پابندیوں میں مزید سختی ناگزیر نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان
کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے۔
وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے اور پابندیوں میں مزید سختی ناگزیر نظر آتی ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے کیونکہ ہم ہر روز اپنے اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تو یہ چیز واضح ہو رہی ہے کہ ایک مرحلے پر آج سے چند دن قبل کیسز کی تعداد 400 یا 500 کے قریب تھی اس وقت ہر روز ان کیسز کی تعداد 700 اور 750 تک ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس کے علاوہ کورونا سے اموات میں بھی اضافہ ہوا ہے، ٹیسٹ کی مثبت شرح بھی کئی ہفتوں تک 2 فیصد سے کم چلتی رہی اور اب بتدریج اس میں اضافہ ہوا اور اب ڈھائی اور پونے تین فیصد کے قریب پہنچی ہے’ ۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ بات بھی واضح ہے کہ بطور قوم جو پابندیاں اور احتیاط ہمیں خود سے کرنی چاہیے وہ ہم نہیں کر رہے ہیں جو اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہیں’۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ ‘اب ہم ان حالات میں آرہے کہ ہمیں کچھ سختی کرنا یا کچھ پابندیوں سخت کرنا ناگزیر ہوتا نظر آر ہا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس میں ہماری اپروچ مقامی سطح سے شروع کریں گے، ان شہروں اور اضلاع میں جہاں اس بیماری کی شرح زیادہ ہے وہاں توجہ زیادہ ہوگی’۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ‘ہمیں کوشش یہ کرنی ہے کہ ہماری پابندیاں ہیں یا جن کے بارے میں ہم سوچ رہے ہیں وہ اس طرح ہوکہ جہاں بیماری کا پھیلاؤ سب سے زیادہ اوربیماری کا زور زیادہ نظر آتا وہاں زیادہ توجہ دی جائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تمام چیزیں زیر غور ہیں اور ابتدائی طور پر مقامی انتظامیہ سے درخواست کریں گے کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور جو لوگ اس پر عمل نہیں کررہے ہیں وہاں پر اضافی سختی کی جائے جس میں جرمانہ یا اس طرح کی چیزیں بھی شامل ہوسکتی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہجوم اور تنگ جگہوں پر ماسک کا استعمال ضروری ہے چاہے یہ دکانیں، عوامی ٹرانسپورٹ، بسیں، شادی یا دیگر تقریبات میں جہاں تنگ جگہ میں بہت سے لوگ اکٹھے ہیں وہاں ماسک ضرری ہے’۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ‘مقامی سطح پر ان پابندیوں کی توجہ زیادہ تر اعداد وشمار کی بنیاد پر ہوگا اور ممکن ہے ہمارے کام اور دیگر تقریبات کے اوقات کار میں بھی کمی لائے جائے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس معاملے میں اس وقت مشاورت اور گفتگو جاری ہے، یہ بتدریج عمل ہوگا اور اس کو مرحلہ وار لے کر چلیں گے جس کے لیے صوبوں، مقامی انتظامیہ اور این سی او سی کے اندر بھی مشاورت جاری ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگلے چند روز میں اس حوالے سے واضح اور ٹھوس گائیڈ لائنز دیکھیں گے، اس کے علاوہ ایک اور طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت ہمارے شہری بھی جہاں ایس او پیر پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہو اس سے آگاہ کرسکیں گے جس کے لیے ایک ہاٹ لائن یا طریقہ کار دیا جائے گا تاکہ اس جگہ انتظامی سطح پر کوئی کارروائی کی جاسکے گی’۔

کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘سختی اور پابندی مشکل ہوتی ہے اسی لیے کوئی بھی حکومت یہ نہیں کرنا چاہتی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت یہ موقع آگیا ہے کہ ہم اس پر بہت سنجیدگی سے غور کریں اور اس حوالے سے تمام صوبوں سے مشورے کے بعد مزید تفصیلات بھی بتائیں گے’۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے امید ہے کہ اگر ہم ان چیزوں کو اپنا لیں گے اور اس احتیاط پر اسی طرح عمل کرتے رہیں جس طرح گزشتہ کئی ماہ سے کرتے آئے ہیں تو ہم دوسری لہر کو بھی واپس ختم کریں گے اور اس چیلنج سے سرخرو ہو کر نکلیں گے’۔
http://www.taghribnews.com/vdcguz9t7ak97z4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس