تاریخ شائع کریں۲ آبان ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۲۴
خبر کا کوڈ : 479658

ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین آخری صدارتی مباحثہ،

ٹرمپ اور ری پبلکن امیدوار جوبائیڈن کے مابین آخری صدارتی مباحثہ میں الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ روس اور چین سے پیسہ لینے کے بھی الزامات عائد کئے۔
ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین آخری صدارتی مباحثہ،
ٹرمپ اور ری پبلکین امیدوار جوبائیڈن نے آخری صدارتی مباحثے میں ایک دوسرے پر قومی سلامتی سے متعلق الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ روس اور چین سے پیسہ لینے کے بھی الزامات عائد کئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ری پبلکن امیدوار جوبائیڈن کے مابین آخری صدارتی مباحثہ ریاست ٹینیسی کے شہر نیشول میں ہوا جس میں کورونا وبا، قومی سلامتی، امریکی خاندانوں، نسل پرستی، موسمیاتی تبدیلی اور قائدانہ صلاحیتوں کے موضوعات پر تند و تیز لہجوں میں الزامات کی بھر مار ہوئی۔

جوبائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ غیر ملکیوں سے ڈرنے والے شخص ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ جو بائیڈن کو ساڑھے تین ملین ڈالر روس سے ملے۔ روس بائیڈن کو بہت رقم دے رہا ہے، ای میلز نے یہ ظاہر کر دیا ہے۔

اس کے جواب میں جو بائیڈن نے کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، چین سے اگر کسی نے رقم بنائی ہے تو وہ ٹرمپ ہیں۔ مباحثے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ 22 لاکھ امریکیوں کے کورونا سے ہلاک ہونے کا خدشہ تھا، چین سے آئے اس وائرس سے لڑنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ کورونا وبا اب دور ہوتی جارہی ہے، ویکسین اس سال کے آخر تک آجائے گی۔

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے جواب میں کہا کہ 2 لاکھ 20 ہزار امریکی کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید 2 لاکھ امریکیوں کے کورونا سے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، اگر کوئی شخص ان اموات کا ذمہ دار ہے تو اسے صدر نہیں رہنا چاہیے۔

جو بائیڈن نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس وبا کا مقابلہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ہم ٹیسٹنگ بڑھائیں گے، میں اس وبا کو ختم کروں گا۔ جو بائیڈن نے کہا کہ ہم کورونا کے ساتھ جینا نہیں کورونا کے ساتھ مرنا سیکھ رہے ہیں، میرے نزدیک یہ موسم سرما انتہائی سیاہ ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ہونے والے صدارتی انتخابات سخت تنازعے اور کشمکش کا شکار ہیں۔ اس بار ہونے والی انتخابی مہم کے دوران پُرجوش ماحول سے ہٹ کر بات کی جائے تو کئی ریاستوں میں رائے دہی کے طریقہ کار کو درپیش قانونی چیلنجز سے اس بات کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کو سیاسی ہنگامہ آرائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اب جبکہ صدارتی انتخابات میں صرف 10 روز ہی رہ گئے ہیں، تو امریکہ اور دنیا بھر میں ان انتخابات کے حوالے سے یہ سوال پیدا ہوگیا کہ کیا انتخابات کا نتیجہ آنے کے بعد اقتدار کی منتقلی منظم انداز میں ہو پائے گی یا پھر معاملہ قانونی جنگوں اور تشدد تک پہونچ جائے گا۔
http://www.taghribnews.com/vdciw3a5vt1ayq2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس