تاریخ شائع کریں۲۶ مهر ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۴۳
خبر کا کوڈ : 479026

اپوزیشن عدالتوں اور فوج کے اندر انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے

وزیراعظم نے اپوزیشن کو خبردار کیا کہ کل جلسے میں جو زبان استعمال کی اور نواز شریف کی تقریر سن کر نیا عمران خان بن گیا ہے، اب اپوزیشن مختلف عمران خان دیکھے گی، اب کسی ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا، ان کو وی آئی پی جیل میں نہیں بلکہ عام جیلوں میں عام قیدیوں کی طرح رکھیں گے
اپوزیشن عدالتوں اور فوج کے اندر انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہے
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف فوج اور عدلیہ میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

عمران خان نے اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کنونشن سے خطاب کیا تو اس موقع پر شرکا نے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ رات کو اپوزیشن کے جلسے میں سرکس ہوا، وہاں بہت سے فنکار تھے لیکن آپ لوگوں کی سوئی ڈیزل پر اٹک گئی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے جلسے میں نواز شریف اور آصف زرداری کے اکٹھے ہونے کے اپنے 11 سال پرانے بیان کی ریکارڈنگ چلوائی، جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف کی تصاویر اور وڈیوز بھی دکھائیں۔ عمران خان نے نواز شریف کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ملک میں مہنگائی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں، جب حکومت ملی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ تھا، اس کے نتیجے میں روپیہ گرتا ہے تو چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، ذخیرہ اندوزی لعنت ہے جس کی روک تھام کیلئے ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے لیکن ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو کہیں بھی مداخلت نہیں کرنی، آپ نے موبائل فون سے تصویر کھینچ کر پورٹل پر اپ لوڈ کرنی ہیں، باقی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایکشن لینا انتظامیہ کا کام ہے، جن دکانوں پر قیمتوں کی فہرست آویزاں نہیں وہاں کی تصویر کھینچنی ہے،  خود کہیں مداخلت نہیں کرنی ورنہ ایسے لوگ جائیں گے جو پیسہ بنائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ شوگر ملز مالکان کم ہیں اور بہت طاقتور ہیں، ان میں شریف خاندان اور زرداری خاندان شامل ہیں، انہیں اب تک کسی نے نہیں پوچھا تھا، وہ قیمت طے کرتے اس پر فروخت ہوتی، پہلی بار اس معاملے کی تفصیلی انکوائری ہوئی ہے، اب ہم جو پلان لے کر آرہے ہیں اس کے بعد عوام کو آئندہ مہنگی چینی نہیں ملے گی۔

وزیراعظم نے نواز شریف کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی جوان ملک کی خاطر جانیں قربان کررہے ہیں اور نواز شریف گیدڑ دم دباکر باہر بھاگا تھا وہاں جاکر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف زبان استعمال کررہا ہے، نواز شریف نے جنرل باجوہ پر نہیں بلکہ پاک فوج پر حملہ کیا، یہی بات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی کررہا تھا، اسی لیے بھارتی خبروں میں ان کی تعریفیں ہورہی ہیں، یہ جنرل جیلانی کے گھر پر سریا بناتے ہوئے وزیر بنا اور ضیا الحق کے جوتے پالش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بنا، بدقسمتی یہ رہی کہ عدالتوں نے ہمیشہ اس کی مدد کی، چوری کا پیسہ بچانے کےلیے نواز شریف ملک تک کو بیچ سکتے ہیں۔

عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کو بچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تقاریر پر بات نہیں کرنا چاہتا، ان میں سے ایک نانی ہوگئی لیکن میرے لیے بچی ہے، دونوں بچوں نے پیسہ کمانے کے لیے ایک گھنٹہ بھی حلال کا کام نہیں کیا، دونوں اپنے باپوں کی حرام کی کمائی پر پلے ہیں، ان پر بات کرنا فضول ہے۔ وزیراعظم نے فضل الرحمان کو 12 واں کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر کیا بات کروں۔

وزیراعظم نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لندن جانے سے پہلے اور لندن جانے کے بعد نواز شریف کی شکل ہی بدل گئی، بالی ووڈ میں بھی کوئی ایسی اداکاری نہیں کرسکتا جو شہباز شریف نہیں کی، انہوں نے ایسی ایکٹنگ کی کہ کابینہ اجلاس میں شیریں مزاری کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے تھے حالانکہ انہیں رلانا بہت مشکل ہے، ایسے میں اس کو باہر بھیجنا ہی تھا، میں بھی اگر اسے اچھی طرح نہ جانتا تو میری آنکھوں میں بھی آنسو آجاتے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ نواز شریف جو گیم کھیل رہا ہے مجھے اس کا پتا ہے، یہ عدالتوں اور فوج کے اندر انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، کبھی کسی جج کا نام لے رہے ہیں، کبھی آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کی بات کررہا ہے، یہ پاکستان دشمن قوتوں میں نمایاں ہونے کی کوشش کررہا ہے جن میں امریکا میں اسرائیلی اور بھارتی لابی شامل ہے، مجھے ساری انٹیلی جنس معلومات ہیں، کوئی بھی آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی ہو مجھے فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں کوئی چوری نہیں کررہا اور میری کوئی بیرون ملک جائیداد نہیں، اپنے ماتحت اداروں کو خود تیار کروں گا اور ملک لوٹنے والے ہر شخص کو ہم پکڑیں گے۔

وزیراعظم نے اپوزیشن کو خبردار کیا کہ کل جلسے میں جو زبان استعمال کی اور نواز شریف کی تقریر سن کر نیا عمران خان بن گیا ہے، اب اپوزیشن مختلف عمران خان دیکھے گی، اب کسی ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا، ان کو وی آئی پی جیل میں نہیں بلکہ عام جیلوں میں عام قیدیوں کی طرح رکھیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے عدلیہ اور نیب کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نیب اور عدالتیں ان کے کیسز پر جلد فیصلے کریں، عوام تنگ آگئے اور انصاف چاہتے ہیں کہ کیسز کب عدالتوں میں مکمل ہوں اور ان چوروں سے پیسہ نکل کر واپس آئے، چیف جسٹس پاکستان سے درخواست ہے کہ حکومت سے جو سپورٹ چاہیے حکومت اس کام میں آپ کی ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن خدا کے واسطے روزانہ سماعت کرکے یہ کیسز ختم کریں، یہ 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، لیکن ان کے کیسز کے فیصلے ہی نہیں ہوتے، نیب کو بھی خدا کا واسطہ کہ کیسز کو منطقی انجام تک پنچائیں، اس کے لیے ہم سے جو مدد چاہتے ہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں، قوم منتظر ہے لوٹا پیسہ کب واپس ملے گا۔

عمران خان نے پاک فوج کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بارشوں ہوں یا کورونا کی وبا آرمی چیف جنرل باجوہ نے مشکل وقت میں ہماری مدد کی، اپنے دفاعی اخراجات کم کیے، خارجہ پالیسی میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے، فوج اور حکومت کے بیچ دراڑ پیدا کرنے یا فوج کے اندر انتشار پیدا، آج سے میرے پوری کوشش ہے کہ نواز شریف کو ملک واپس لاکر جیل میں ڈالا جائے، نواز شریف تم واپس آؤ اب میں تمہیں دیکھتا ہوں۔
http://www.taghribnews.com/vdchiwnk-23nqvd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس