تاریخ شائع کریں۲۴ مهر ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۹:۲۱
خبر کا کوڈ : 478892

وائرس اور اینٹی باڈیز کی ہولوگرام سے شناخت ممکن،

ماہرین کی ایک ٹیم نے ہولوگرافک تصویر سازی کا بالکل نیا طریقہ وضع کیا ہے جو وائرس اور اینٹی باڈؑیز کو شناخت کرکے طبی آزمائش میں مدد دیتا ہے۔
وائرس اور اینٹی باڈیز کی ہولوگرام سے شناخت ممکن،
دنیا بھر میں نت نئے وائرس، بیکٹیریا اور اینٹی باڈیز سامنے آتے رہتے ہیں اور اب ماہرین کی ایک ٹیم نے ہولوگرافک تصویر سازی کا بالکل نیا طریقہ وضع کیا ہے جو وائرس اور اینٹی باڈؑیز کو شناخت کرکے طبی آزمائش میں مدد دیتا ہے۔

یہ تحقیق کووڈ 19 کے پس منظر میں کی گئی ہے جس میں خالصتاً طبیعیات سے مدد لی گئی ہے۔ اس کے روح رواں پروفیسر ڈیوڈ گرائیر ہیں جو کہتے ہیں کہ فزکس کو پہلے اس طرح کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا جس میں ہم نے حقیقی طور پر وائرس اور اینٹی باڈیز کو خاص دانوں پر چپکے ہوئے دیکھا ہے۔

یہ تحقیق سافٹ میٹر نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے اور اسے بہتر بنا کر صرف 30 منٹ میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ یکساں طور پر یہ وائرس (انفیکشن) یا پھر اینٹی باڈیز ( امیونٹی) کو دیکھنے میں مدد دیتا ہے۔ 

اس میں سب سے اہم کردار انتہائی باریک موتیوں کا ہے جو حیاتی کیمیائی عمل سے وائرس اور اینٹی باڈیز کو چپکالیتا ہے۔ اس طرح موتی ایک میٹر کے اربویں حصے تک تھوڑی پھیل جاتی ہیں۔ پھر ان تبدیلیوں کو ہولوگرام کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔

ہولوگرام نظام ایک سیکنڈ میں ایک درجن موتیوں کا جائزہ لے سکتا ہے یعنی 20 منٹ میں ایک ہزار موتیوں سے چمٹے وائرس اور اینٹی باڈؑیز کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظام مکمل طور پر قابل اعتماد اور انتہائی کم خرچ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں خاص آلہ ’ایکس سائٹ‘ استعمال ہوا ہے جسے خود ڈیوڈ نے ایجاد کیا ہے۔ اس نظام کو آسانی سے استعمال کرکے مختلف موتیوں کو خاص بصری طریقوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے ہولوگرام کاڑھے جاتے ہیں۔

توقع ہے کہ یہ انقلابی ٹیکنالوجی وائرس کی تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کرسکے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdchw6nki23nq6d.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس