تاریخ شائع کریں۹ مهر ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۱:۰۶
خبر کا کوڈ : 477497

بابری مسجد فیصلہ/ بھارتی عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ باب ہے

اسد الدین اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا بابری مسجد پراپرٹی کیس میں اسے منصوبہ بندی سے تباہ کرنے کا کہہ چکی ہے
آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کورٹ کا فیصلہ بابری مسجد کے بارے میں بھارتی عدلیہ کی تاریخ کے لیے سیاہ دن ہے۔

ایک بیان کے ذریعے بابری مسجد شہادت کیس کے فیصلے پر آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج افسوس ناک دن ہے، عدالت کہتی ہے کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا بابری مسجد پراپرٹی کیس میں اسے منصوبہ بندی سے تباہ کرنے کا کہہ چکی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی عدالت نے بابری مسجد شہید کرنے کے مقدمے میں نامزد تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔لکھنئو کی خصوصی عدالت میں 28 سال سے جاری مقدمے میں 1992 میں شہید ہونے والی بابری مسجد کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا جس میں بی جے پی کے مرکزی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت دیگر ملزمان کو بری کردیا گیا۔

خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسجد کو کسی منصوبہ بندی کے تحت شہید نہیں کیا گیا اور نہ ہی مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک انٹیلی جینس رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ 6 دسمبر کو غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں تاہم اس رپورٹ پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔

خیال رہے کہ بی جے پی کے سرکردہ رہنما لال کرشن ایڈوانی نے راشٹریہ سیوک سنگھ ک ساتھ مل کر 1992 میں بابری مسجد کے خلاف ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔ اس یاترا کے بعد ایودھیا میں لاکھوں ہندو انتہا پسند رضاکار(کار سیکو) جمع ہوئے جنھوں ںے کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی عمارت کو منہدم کردیا۔ 
http://www.taghribnews.com/vdchwqnkq23nqkd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس