تاریخ شائع کریں۹ مهر ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۰:۱۴
خبر کا کوڈ : 477488

ہندوستان: دفتر نمائندہ ولی فقیہ کے زیر اہتمام آیت اللہ تسخیری کی یاد میں ویبینار

آیت اللہ تسخیری جیسی روشن فکر شخصیت کے لئے لب گشائی کرنا بہت دشوار کام ہے۔ مرحوم نے اپنے وقت کے مشہور و معروف علمائے کرام کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔ حقیقت میں مرحوم انہی جید علمائے کرام کے علم و فکر کے عکاس تھے۔ وہ شہید صدر کی شخصیت میں مکمل طور پر جذب ہوچکے تھے
ہندوستان: دفتر نمائندہ ولی فقیہ کے زیر اہتمام آیت اللہ تسخیری کی یاد میں ویبینار
اسلامی جمہوریہ ایران کی معروف مذھبی اور سماجی شخصیت آیت اللہ تسخیری مرحوم کی یاد میں بھارت کے شہر دہلی میں ایک ویبنار کا اہتممام کیا گیا۔

وبنینار کے مہتتم حجت الاسلام سید جلال حیدر نقوی نے کہا کہ آیت اللہ تسخیری کے خبر انتقال پر ہمیں انتہائی دکھ پہنچا اور آج ہم ان کی عظیم شخصیت کو سراہنے کے لئے اس ویبنار کا اہتمام کررہے ہیں۔ 

سعادت اللہ حسینی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا آیت اللہ محمد علی تسخیری ایک بڑے عالم دین تھے اور انہوں نے اپنی علمی اور دینی خدمات کی وجہ سے شہرت حاصل کی خاص طور پر انکی کتاب اسلام کا اقتصادی نطام اور دیگر کتابیں خاص شہرت کی حامل رہی ہیں۔

مولانا محسن تقوی نے اس ویبنار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ تسخیری کا اتتقال دراصل پوری امت اسلامیہ کے لئے بہت بڑا خسارا ہے۔ آپ اتحاد بین المسلیمن کے داعی تھے۔ ایک ایسی شخصیت تھے جو عملی طور پر امت اسلامیہ کو صحیح معنی میں ہدایت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔ 

ڈاکٹر مفتی مکرم نے اس موقع پر کہا کہ میری آیت اللہ تسخیری سے بھارت اور ایران دونوں جگہ ملاقات رہی۔ وہ ایک علم دوست اور علمائے کرام سے محبت کرنے والے فرد تھے۔ اور ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔ انکے رسائل التقریب ایک بہت اچھا علمی ذخیرہ ہیں۔ وہ ایک ہنس مکھ شخصیت تھے۔ انکی خدمات اتحاد بین المسلمین کے سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔ ان کے انتقال پر ہمیں بہت صدمہ ہے۔ 
معین حسین چشتی نے کہا کہ ہم یہاں پر دعاگو ہیں کہ خداوند متعال آیت اللہ تسخیری کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم دربار معین الدین چشتی میں یہ دعا کرتے ہیں کہ خدا انکا مشن پورا کرے۔

سابق قونصلر جنرل ڈاکٹر علی نجفی نے کہا کہ رہبر معظم نے آیت اللہ تسخیری کے بارے میں فرمایا کہ آیت اللہ تسخیری عالم اسلام کی بولتی ہوئی تصویر تھے۔ مرحوم آیت اللہ تسخیری کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ہندوستان تشریف لائیں اور یہاں علمائے کرام سے گفت و شنید کریں۔ آیت اللہ تسخیری کی شخصیت کے تعارف کے لئے ایک کانفرنس کافی نہیں ہے۔ بھارت میں موجود علمائے کرام کے تشکر نامے اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ کتنی جامع شخصیت کے مالک تھے۔ 

مولانا آزاد یونیورسٹیی کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الوصی نے ویبنار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آیت اللہ تسخیری کی اتحاد امت کے لئے فکر و عمل غیر معمولی کوششیں تھیں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ یہ زمانہ مجادلہ اور مناظرہ کا نہیں بلکہ مکالمہ کا ہے۔ انکی خواہش تھی کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ نفرت اور عناد کا رشتہ نہ رکھیں۔ ان کا یہ ماننا تھا کہ اسلام بنیادی طور جمہوری مزاج اور کردار والا مذہب ہے۔ آج عالم اسلام بحران کا شکار ہے اور اس موقع پر آیت اللہ تسخیری جیسی شخصیات کی اشد ضرورت ہے۔ 

ڈاکٹر علیزادہ موسوی نے اس موقع پر کہا کہ آج اسلام کے خلاف سازش کی گئی ہے اور اسلام کو اسلام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، موجودہ صدی کی آخری دہائیوں میں ایک ایسی شخصیت جس نے عالم اسلام میں اختلافات کو کم کرنے کی کوشش کی وہ آیت اللہ تسخیری مرحوم کی شخصیت تھی جنہون نے جسموں کو اکھٹا کرنے کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی محبت کے نام پر اکھٹا کیا ہے۔ مرحوم آیت اللہ تسخیری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ دوسرے مکاتب فکر کے بارے میں معلومات حاص کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ آج کے دور میں ایسی شخصیت کی اشد ضرورت ہے۔ 

ہمدرد یونیورسٹی دہلی کے پروفیسر ڈاکٹر غلام یحیی انجم  نے ویبنار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ اتنا عظیم اس دنیا سے اتنی جلد رخصت ہوگیا، خداوند متعال انکی مغفرت کرے۔ 

ایرانی کلچر ہاوس نئی دہلی کے انچارج ڈاکٹر محمد علی رحیمی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ تسخیری نے اپنی پوری عمر وحدت اسلامی اور معارف اسلامی کو عام کرنے میں صرف کردی۔ آیت اللہ تسخیری نے عالم اسلام کی مشکل کو درک کرلیا تھا اور وہ اسلامی وحدت کے احیاء کے لئے کمر بستہ ہوگئے تھے۔ جب بھی عالم اسلام میں یا دیگر مکاتب فکر کے درمیان گفتگو کی بات ہوتی ہے تو آیت اللہ تسخیری کا نام ضرور لیا جاتا ہے۔ مجھے بڑی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ عالم اسلام اور عالم عیسائیت کے درمیان مختلف نشستوں میں مرحوم کے ہمراہ ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں آیت اللہ تسخیری مرحوم جیسی شخصیت کے مخلصانہ جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مرحوم اپنی بابرکت عمر کی آخری سانسوں تک عالم اسلام میں وحدت کے لئے کوشاں رہے۔ مرحوم کی تحریک کو آگے بڑھانے کی ذمہ ہر مسلمان خاص طور پر علمائے کرام کی ذمہ داری ہے۔

مولوی اسحاق مدنی نے اس ویبنار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ تسخیری اپنے دین، اپنے معاشرے اپنے ملک کے لئے موثر ثابت ہوئے ہیں انکا جانا کسی ایک شہر ایک ملک کا نقصان نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا نقصان ہے۔ حضرت آیت اللہ تسخیری ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے بہت سے انسانوں کے دل اپنی جانب کئے اور اپنی محبت انکے دلوں میں پیدا کی۔ میں کافی عرصے سے انکو جانتا ہوں اور مجھے بہت سارے مواقع ملے جن میں میں نے مختلف کانفرنسوں، مجلسوں اور محفلوں میں انکی ہمراہی کی۔ آیت اللہ تسخیری جب فکری مسائل کے سلسلے میں گفتگو کرتے تو جلسے میں موجود ہر ایک ان کے علم اور معلومات کا معترف ہوجاتا تھا۔ انکی بلاغت کا یہ انداز تھا کہ جب وہ شعرائے کرام کی محفل میں شرکت کرتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ عربی زبان کے شاعر ہیں۔ جب آپ عربی میں گفتگو کرتے تو لوگ انکی فصاحت و بلاغت سے متاثر ہوجاتے تھے۔ 

 بنارس سے تعلق رکھنے والی معروف مذہبی شخصیت حجت الاسلام سید شمیم الحسن نے آیت اللہ تسخیری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا آیت اللہ تسخیری نے حصول علم کے سلسلے میں دنیا اور دین ہر اعتبار سے ارتقائی منزل طے کی اور درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور انہوں نے ایک مجاہد کی حیثیت سے اسلام کی خدمت کی۔ آج انکے انتقال پرملال سے عالم اسلامی کی تمام عظیم شخصیات غمگین ہیں۔ 
اسلامی جمہوریہ ایران کے بھارت میں سفیر ڈاکٹر علی چگینی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ تسخیری اتنی زیادہ مشقت کرتے تھے کہ دیکھنے والا تصور کرتا کہ یہ کوئی پچاس ساٹھ سالہ شخص ہے لیکن آپ کی عمر اس سے کہیں زیادہ تھی۔ آیت اللہ تسخیری دین محمدی ص کی زبان تھے۔ مرحوم عالم عالم اسلام کا گراں بہا ذخیرہ تھے۔ عیسائی حضرات بھی آیت اللہ تسخیری کے شیدائی تھے۔ مرحوم جہاں جاتے وہیں کی زبان میں مدلل گفتگو کیا کرتے تھے۔ مرحوم کا سراسر وجود خدمت اور جانفشانی تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم ہمارے درمیان سے بہت جلد رخصت ہوگئے۔ 

ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمید شہریاری نے کہا کہ عالم اسلام میں وحدت اور اتحاد کے علمبردار، مصلح اور بیدار گر آیت اللہ حاج شیخ تسخیری پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ آیت اللہ تسخیری جیسی روشن فکر شخصیت کے لئے لب گشائی کرنا بہت دشوار کام ہے۔ مرحوم نے اپنے وقت کے مشہور و معروف علمائے کرام کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا۔ حقیقت میں مرحوم انہی جید علمائے کرام کے علم و فکر کے عکاس تھے۔ وہ شہید صدر کی شخصیت میں مکمل طور پر جذب ہوچکے تھے۔ مرحوم کی انقلابی شخصیت اس وقت پروان چڑھی جب آپ کو امام خمینی رح کی ہمراہی کا موقع ملا۔ فلسطین کی مظلوم قوم کی حمایت اور قدس کی آزادی آُ کا سب سے بڑا مقصد تھا۔ آپ کی شخصیت پوری دنیا میں ایک مصلح کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ مرحوم آیت اللہ تسخیری کی کتاب المختصر ومفید فی تفسیر القرآن ایک بے مثال اور سادہ کتاب ہے۔ علمی اور ثقافتی میدان میں مرحوم آیت اللہ تسخیری ایک اسوہ اور قابل تقلید شخصیت کے حامل تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم کا نام عالم اسلامی میں ہمیشہ باقی رہے گا۔ آپ فکر و عمل میں اعتدال کے مالک تھے۔ آپ کا تعلق پورے عالم اسلام تھا۔ آپ عالم اسلام کے لئے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ 

ویبنار کے آخر میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے ڈاکٹر مہدی مہدوی پور نے معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ تسخیری ایک صاحب بصیرت شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی شخصیت بے نظیر تھی، خداوند عالم نے مرحوم کو اپنی خاص عانایا سے نوازا تھا۔ آیت اللہ تسخیری اتحاد اور وحدت کے پرچمدار تھے۔ آپ علمی محافل میں وحدت کے اصولوں کو قرآن اور احادیث کے ذریعے پیش کیا کرتے تھے۔ آیت اللہ مرحوم تسخیری نے خصوصی اور عمومی محافل میں اسلامی وحدت کی فضا کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہمیں انکی راہ کو آگے بڑھانے کے لئے جانفشانی کرنی چاہئے۔ 
http://www.taghribnews.com/vdch6qnk623nqkd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس