تاریخ شائع کریں۲۴ شهريور ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۶:۲۲
خبر کا کوڈ : 475836

صیہونی مظاہرین کے کئی ہفتوں سے نتن یاہو کے خلاف مظاہرے جاری،

صیہونی مظاہرین کئی ہفتوں سے وزیر اعظم نتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر کے انکے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صیہونی مظاہرین کے کئی ہفتوں سے نتن یاہو کے خلاف مظاہرے جاری،
رپورٹ کے مطابق اس بار مظاہرین نے صیہونی دہشتگردی کے مرکز تل ابیب کے بین الاقوامی ایئرپورٹ بین گوریئن کی طرف جانے والی شاہراہ کو بند کر دیا۔ صیہونی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کی استواری اور نام نہاد امن معاہدے پر دستخط کے لئے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔

صیہونی مظاہرین کئی ہفتوں سے پے در پے ہفتے اور اتوار کی شبوں میں وزیر اعظم نتن یاہو کے خلاف مظاہرے کر کے انکے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مقبوضہ فلسطین میں حالیہ مہینوں کے دوران صیہونی وزیر اعظم کی خاندانی بد عنوانیوں اور کورونا وائرس کو مہار کرنے میں انکی ضعیف کارکردگی کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم کے خلاف مظاہرے اب معمول بنتے جا رہے ہیں اور ہفتہ کی رات بھی  تل ابیب کی بالفور اسٹریٹ پر واقع صیہونی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے ہزاروں صیہونیوں نے اکٹھا ہو کر بدعنوانیوں میں ملوث نتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کیا جبکہ اسی طرح کے مظاہرے اسرائیل کے تقریبا 300 دیگر مقامات پر بھی ہوئے جبکہ صیہونی وزیر اعظم کے خلاف مظاہروں میں دن بدن شدت آ رہی ہے ۔

مظاہرین نیتن یاہو کے استعفیٰ  کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک صیہونی کورٹ نے اکیس نومبر کو، مالی بدعنوانیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دھی کے الزامات کے تحت صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو پر باضابطہ فرد جرم بھی عائد کر دی ہے۔

نیتن یاہو کو ریاستی سودوں میں بدعنوانیوں کے چار بڑے مقدمات کا سامنا ہے جن کی مجموعی مالیت کئی ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcc1pq0e2bqm48.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس