تاریخ شائع کریں۲۲ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۲۸
خبر کا کوڈ : 472412

علاقے کے ممالک امریکا سے ہوشیار رہنا چاہئے، حسن روحانی

ایران اگر علاقے میں استحکام کے لئے استقامت کا مظاہرہ نہیں کرتا تو ایران کے بعض جنوبی پڑوسی ممالک آج نہ ہوتے۔صدر ایران
علاقے کے ممالک امریکا سے ہوشیار رہنا چاہئے، حسن روحانی
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں پڑوسی ملکوں کو امریکہ کی جانب سے غلط فائدہ اٹھائے جانے کے سلسلے میں خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے ملکوں کو امریکا اور ان ملکوں سے ہوشیار رہنا چاہئے جو علاقے کے عوام کی دولت لوٹ رہے ہیں اور اس کے عوض ان کو ہتھیار بھی فروخت کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے ہی پڑوسی ملکوں کے خلاف ان ہتھیاروں کو استعمال کریں اور ان پر بمباری کریں۔

ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلا وہ ملک تھا جس نے کویت پر صدام حکومت کی جارحیت کی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ وہ علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے ورنہ اس زمانے میں تہران صدام کو ہری جھنڈی بھی دکھا سکتا تھا اور یہ ڈکٹیٹر کویت پر حملے کے دوسرے ہی دن پورے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر پر بھی قبضہ جما لیتا-

صدر ایران نے بعض پڑوسی ملکوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ ایران اگر علاقے میں استحکام کے لئے استقامت کا مظاہرہ نہیں کرتا تو ایران کے بعض جنوبی پڑوسی ممالک آج نہ ہوتے۔

صدر ایران نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی ایران مخالف قرارداد کی منظوری ایٹمی معاہدے اور خود سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے منافی ہو گی اور اس کے نتائج کے ذمہ دار اس قرارداد کے بانی ممالک ہی ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن تہران کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتا اور ایران قوانین و ضوابط اور قومی مفادات کے دائرے میں جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس میں وہ کامیاب ہو گا۔

انھوں نے لبنان کی موجودہ صورتحال کی جاب بھی ایک اشارہ کیا اور کہا کہ کسی کو بھی لبنان کے سانحے سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے اور اس ملک کو متحد اور پرسکون رہنے کے لئے اور تعاون کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے لبنان کے لئے ایران کی طبی امداد کا ذکر کرتے ہوئے یہ اطمینان ظاہر کیا کہ عظیم لبنانی قوم کہ جس نے مختلف حادثات میں ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سخت مرحلے کو عبور کرنے میں کامیاب رہے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdcjv8ex8uqeaxz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس