تاریخ شائع کریں۱۵ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۰۹
خبر کا کوڈ : 471675

اسرائیلی وزیراعظم اپنے دھمکی آمیز بیان سے مکر گئے،

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے آفس کی طرف سے جاری دھمکی آمیز بیان نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپاکردیا۔
اسرائیلی وزیراعظم اپنے دھمکی آمیز بیان سے مکر گئے،
اسرائیلی حکومت نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ جن میں بیروت میں زوردار دھماکوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی جا رہی ہے۔ اسرائیل بیروت میں ہونے والے دھماکے میں کسی طرح بھی ملوث نہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے آفس کی طرف سے جاری دھمکی آمیز بیان نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپاکردیا۔

دھماکوں سے دو گھنٹے قبل " پرائم منسٹر آف اسرائیل" کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے وزیراعظم نیتن یاہو کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ " ہم نے ایک سیل کو نشانہ بنایا گیا اور اب انہیں بھیجنے والوں کا نشانہ بنائیں گے ، ہم وہ تمام کریں گے جو ہمارے دفاع کے لیے ضروری ہے ، میں حزب اللہ سمیت ان تمام کو تجویز دیتا ہوں کہ اس پر غور کریں"۔

ان کی طرف سے مزید لکھا گیا کہ " یہ فالتو الفاظ نہیں، یہ ریاست اسرائیل کا وزن رکھتے ہیں، اسے سنجیدگی سے لیاجائے گا"۔

صرف یہی نہیں بلکہ دھماکہ ہونے کے چند گھنٹے بعد اسی ٹوئٹر اکائونٹ پر اسرائیل نے پینترا بدلا اور امدادی سرگرمیوں میں معاونت کی پیشکش بھی کرڈالی ۔ لکھا گیا کہ"وزیراعظم نیتن یاہو نے این ایس سی کے سربراہ بین شبت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مڈل ایسٹ پیس پراسیس کے کوارڈینیٹر سے رابطہ کریں اور وضاحت کریں کہ اسرائیل مزید کیسے لبنان کی معاونت کرسکتا ہے ۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں جو  دھماکہ  ہوا وہ  دھماکا اتنا خوفناک تھا کہ اس کی آواز اسرائیلی شہروں تک بھی سنی گئی تھی، دھماکوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور 4 ہزار 500 زخمی ہوئے تھے اور سیکڑوں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
http://www.taghribnews.com/vdcjavexiuqeamz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس