تاریخ شائع کریں۱۵ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۵۰
خبر کا کوڈ : 471672

کورونا کا مؤثر ترین علاج ممکن نہیں، عالمی ادارہ صحت

اگرچہ کورونا کے خلاف بعض ویکسین سے امید افزا نتائج ملے ہیں لیکن شاید کووڈ 19 کے تیر بہدف اور مؤثر علاج کی منزل تک نہیں پہنچا جاسکتا۔
کورونا  کا مؤثر ترین علاج ممکن نہیں، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ برائے صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کورونا کے خلاف بعض ویکسین سے امید افزا نتائج ملے ہیں لیکن شاید کووڈ 19 کے تیر بہدف اور مؤثر علاج کی منزل تک نہیں پہنچا جاسکتا اور دنیا کے حالات نارمل ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔

اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد اور ہلاکتوں کی تعداد 6 لاکھ 88 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ بھارت، برازیل اور امریکا میں کووڈ 19 کے مریضوں کا گراف مسلسل بڑھ رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایدانم گیبریسیئس نے تمام حکومتوں پر زور دیا ہے کہ انہیں انتہائی سخت اقدامات اختیار کرنا ہوں گے جن میں ماسک پہننا، سماجی فاصلہ، ہاتھ دھونے اور ضرورت پڑنے پر ٹیسٹ کروانا شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے دفتر سے ورچول نیوز بریفنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’تمام عوام اور حکومتوں تک یہ پیغام بہت واضح ہے یعنی ’ہرممکن قدم اٹھائیں،  بہت سی ویکسین اب انسانوں پر آزمائش کے لیے تیار ہیں اور امید ہے کہ وہ عوام کو انفیکشن سے بچانے میں مددگار ہوں گی لیکن اس وقت کوئی تیربہدف علاج سامنے نہیں اور آئندہ بھی اس کا بہت زیادہ امکان بھی نہیں ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے برازیل اور بھارت کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ضمن میں انہیں ایک بڑی جنگ لڑنا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی اور بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم ووہان جائے گی جہاں کورونا وائرس کے ظہور پر مزید تحقیق کی جائے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdcguq9txak9u34.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس