تاریخ شائع کریں۱۳ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۵۵
خبر کا کوڈ : 471405

تہران اور بیجنگ کا حالیہ سمجھوتا، واشنگٹن حکام کو تشویش،

امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے ایران اور چین کے سلسلے میں ہمیشہ منفی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ہے۔
تہران اور بیجنگ کا حالیہ سمجھوتا، واشنگٹن حکام کو تشویش،
امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے ایران اور چین کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، اس وقت تہران اور بیجنگ کے حالیہ سمجھوتے کے پیش نظر ایران اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی نزدیکی سے واشنگٹن کے حکام کی تشویش اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وہ تلملا اٹھے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیؤ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بیجنگ کے خلاف بھی عائد کئے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے فوکس نیوز سے گفتگو میں ایران اور چین کے پچیس سالہ اسٹریٹیجک سمجھوتے کے بارے میں کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ یقینا وہ تمام پابندیاں جو ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عائد کی ہیں چین کی کمیونسٹ پارٹی اور اس ملک کے سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے خلاف بھی عائد کی جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران کے ساتھ چین کا اسٹریٹیجک تعاون مغربی ایشیا میں عدم استحکام اور اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے خطرات لاحق ہونے کا باعث بنے گا۔

مائیک پمپیؤ کا یہ بیان ایران اور چین کے حالیہ سمجھوتے، ان دونوں ملکوں کے خلاف امریکی اقدامات اور پالیسیوں پر اثرانداز ہونے پر واشنگٹن کے حکام کی گہری تشویش کا ترجمان ہے جبکہ چین کے خلاف بھی ایران مخالف امریکی پابندیوں جیسی پابندیوں سے متعلق پمپیؤ کی غیر معمولی دھمکی پر عمل کئے جانے سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

امریکہ کی ٹرمپ حکومت نے ایران اور چین کے سلسلے میں ہمیشہ منفی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا ہے۔دسمبر دو ہزار سترہ میں جاری کی جانے والی امریکہ کی قومی سلامتی کی اسٹریٹیجک دستاویزات میں چین کو امریکہ کے مفادات، اثرورسوخ اور امریکہ کی طاقت کے لئے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی سامراج مخالف ماہیت کی بنا پر امریکہ کی خصومت و دشمنی ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمہوری نظام کے قیام کے وقت سے ہی جاری ہے اور گذشتہ بیالیس برس کے دوران امریکہ نے مختلف قسم کی سازشوں اور پابندیوں کے نفاذ سے ایران کے اس نظام کو کمزور و ناتواں بنانے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسیوں کے دائرے میں امریکا کی ان کوششوں میں تیزی آگئی ہے ۔اس وقت امریکہ کی دشمنی کا سامنا کرنے والے دو ملکوں کی حیثیت سے ایران اور چین، اپنے اسٹریٹیجک سمجھوتے کی بنیاد پر تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور یقینی طور پر اس سمجھوتے کی تمام شقوں خاص طور سے اقتصادی اور تجارتی شقوں پر عمل درآمد سے امریکہ کا ایران مخالف اقتصادی دباؤ زیادہ بے اثر ہوگا۔

چنانچہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر رونی لیپشوٹز نے ایران اور چین کے اس سمجھوتے کو امریکا کے لئے ایک بڑا چیلنچ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے بگڑتے ہوئے تعلقات کے پیش نظر یہ سمجھوتہ علاقے میں چین کا وسیع پیمانے پر اثرورسوخ بڑھنے کا باعث بنے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی تہران اور بیجنگ کے پچیس سالہ سمجھوتے کی تفصیلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سمجھوتہ مغربی ایشیا میں چین کا اثرورسوخ، اور امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کی اقتصادی طاقت مضبوط و مستحکم ہونے کا باعث بنے گا۔
http://www.taghribnews.com/vdcaw6nym49n0y1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس