تاریخ شائع کریں۱۲ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۹:۳۸
خبر کا کوڈ : 471289

منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔پاکستانی سینیٹر

آج پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ افغان جہاد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ ہیں،سینیٹر مشاہد
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔پاکستانی سینیٹر
سینیئر پاکستانی سینیٹر پاکستانی سینیٹر اور دہشت گردی کی مالی اعانت کو ملک کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

سینٹر فار پاکستان اینڈ گلف اسٹڈیز کے زیر اہتمام ایک ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں، وہ افغان جہاد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ ہیں اور ایف اے ٹی ایف نے ہمیں اسے صاف کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

انہوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت روکنے سے متعلق پاکستان کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ کام کر رہا ہے لیکن حقیقتاً منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت ملکی مفاد میں نہیں ہے۔

مشاہد حسین سید نے ایف اے ٹی ایف کو ملکوں پر دباؤ ڈالنے کا نیا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالے گا بلکہ دباؤ میں اضافہ کیا جاتا رہے گا۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ شام میں داعش گروپ کو سی آئی اے اور موساد کی حمایت حاصل تھی اور یہ بات دستاویزی شکل میں موجود ہے کہ شامی فوج سے لڑنے والے داعشی گولان ہائٹس میں اسرائیلی اسپتالوں میں طبی امداد حاصل کر رہے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdcaa6nyo49n0u1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس