تاریخ شائع کریں۹ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۵:۴۰
خبر کا کوڈ : 470982

اسکردو میں شہدائے کربلا کی یاد میں عاشورا اسد کا انعقاد

جلوسوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی طور پر انتظامات کئے گئے تھے۔ اہم چوراہوں کو صبح گیارہ بجے ہی سیل کر دیا گیا، دکانوں کی چھتوں پر سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، مختلف ماتمی انجمنوں، سماجی تنظیموں کی طرف سے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی گئی تھیں، جہاں کورونا کے پیش نظر ڈسپوز ایبل برتنوں کا استعمال کیا گیا۔
اسکردو میں شہدائے کربلا کی یاد میں عاشورا اسد کا انعقاد
پاکستان کے شمالی علاقے اسکردو میں شہدائے کربلا کی یاد میں عاشورا اسد انتہائی عقیدت و احترام و مذہبی جوش جذبے کے تحت منایا گیا۔

گمبہ اسکردو میں علم، تعزیے، ذوالجناح اور تابوت کے بیس بڑے جلوس نکالے گئے، رواں سال عاشورہ اسد کو عالمگیر وبائی مرض کورونا سے نجات کیلئے یوم دعا کا نام دیا گیا۔ جلوسوں کی برآمدگی سے قبل مختلف امام بارگاہوں اور عزاخانوں میں مجالس عزاء منعقد کی گئیں۔

چار انٹری پوائنٹس سے عزاداروں کی سکریننگ کی گئی، بیمار لوگوں کو محکمہ صحت کے کیمپ میں بھیج دیا گیا، مختلف ماتمی انجمنوں اور مختلف مخیر حضرات کی جانب سے عزاداروں میں ماسک اور سینٹائزر تقسیم کئے گئے، مجالس اور جلوسوں کا دورانیہ مختصر کیا گیا۔

مجالس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام و ذاکرین نے واقعہ کربلا اور فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی اور کورونا سے نجات کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

جلوسوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی طور پر انتظامات کئے گئے تھے۔ اہم چوراہوں کو صبح گیارہ بجے ہی سیل کر دیا گیا، دکانوں کی چھتوں پر سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، مختلف ماتمی انجمنوں، سماجی تنظیموں کی طرف سے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی گئی تھیں، جہاں کورونا کے پیش نظر ڈسپوز ایبل برتنوں کا استعمال کیا گیا۔

گمبہ اسکردو کے تمام گھروں میں نیاز حسین علیہ السلام کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امام جمعہ و الجماعت سید احمد شاہ الحسینی نے جلوس میں بھرپور شرکت کرکے نظم و نسق کا خیال رکھنے پر عزاداروں کا شکریہ ادا کیا۔
http://www.taghribnews.com/vdcjoyex8uqeahz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس