تاریخ شائع کریں۷ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۳۱
خبر کا کوڈ : 470770

مسلمان محدود پیمانے پر نماز عید اور قربانی کی رسم ادا کریں

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے یہ ایک مذہبی فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر صاحب حیثیت مسلمان پر واجب ہے، اس لئے جس پر قربانی واجب ہے اسے ہرحال میں یہ فریضہ ادا کرنا چاہیئے
مسلمان محدود پیمانے پر نماز عید اور قربانی کی رسم ادا کریں
روز بروز کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے معاملوں کے پیش نظر جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مسجدوں میں یا گھروں میں وزارتِ صحت کی طرف سے دی گئی گائیڈ لائن کو سامنے رکھتے ہوئے عید الاضحٰی کی نماز ادا کریں۔ یہ مشورہ انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ بہتر ہے کہ سورج نکلنے کے بیس منٹ کے بعد مختصر طریقہ پر نماز و خطبہ ادا کرکے قربانی کرلی جائے اور آلائش کو اس طرح دفن کیا جائے کہ اس سے تعفن نہ پھیلے۔ مولانا ارشد مدنی نے بھارت کے موجودہ حالات کے پیش نظر بھارتی مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دین و شریعت پر ضرور عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے میڈیا اور خاص طور پر شوشل میڈیا میں قربانی کے حوالے سے منفی تبصرے اور گمراہ کن پروپیگنڈے ہورہے ہیں، ہمیں ان پر توجہ دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے یہ ایک مذہبی فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر صاحب حیثیت مسلمان پر واجب ہے، اس لئے جس پر قربانی واجب ہے اسے ہرحال میں یہ فریضہ ادا کرنا چاہیئے، تاہم کورونا وائرس کے خطرات کو دیکھتے ہوئے وزارت صحت اور ضلع انتظامیہ کی گائڈ لائن اور ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس فرض کی ادائیگی کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ جس جگہ قربانی ہوتی آئی ہے اور فی الحال وہاں بھی بڑے جانور کی قربانی میں کسی طرح کی دشواری ہو تو وہاں کم سے کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور انتظامیہ کے دفتر میں باضابطہ طور پر اس کا اندراج کرایا جانا چاہیئے تاکہ مستقبل میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عید الاضحٰی کے موقع پر حسب روایت قربانی ضرور کرنی چاہیئے۔ مولانا ارشد مدنی نے موجودہ وبائی صورتحال کے پیش نظر یہ اہم مشورہ بھی دیا کہ قربانی کے دوران تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھا جائے، سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے باہمی میل جول اور بھیڑ اکٹھا کرنے سے بچا جائے، راستوں اور گزرگاہوں پر قربانی نہ کی جائے، خون، فضلات اور زائد اجزاء کو کہیں پھینکنے کے بجائے دفن کردیا جائے یا انہیں کوڑا کرکٹ متعینہ مقام تک پہنچا دیا جائے، صفائی ستھرائی کا پورا پورا خیال رکھا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قربانی کے دوران اس بات کا بھی لحاظ رکھا جائے کہ ہمارے اس عمل سے کسی دوسرے کو پریشانی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کا سبب بنے۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے احتراز کریں چوں کہ مذہب میں اس بدلے میں کالے جانوروں کی قربانی جائز ہے اس لئے کسی بھی فتنے سے بچنے کے لئے ان کی قربانی پر اکتفاء کیا جانا بہتر ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر کسی جگہ فرقہ پرست عناصر کالے جانور کی قربانی سے بھی روکتے ہیں تو کچھ سمجھدار اور بااثر لوگوں کے ذریعے انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر قربانی کے فریضے کی ادائیگی کی جائے اور اگر خدا نخواستہ اس کے بعد بھی اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کا راستہ نہیں نکلتا تو جس قریبی آبادی میں کوئی دشواری نہ ہو وہاں قربانی کرا دی جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے یہ بھی اپیل کی کہ اس بیماری سے حفاظت کے لئے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اللہ سے دعا کرنی چاہیئے اور توبہ و استغفار کا اہتمام بھی ضرور کرنا چاہیئے۔
http://www.taghribnews.com/vdcef78e7jh8ffi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس