تاریخ شائع کریں۷ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۲۸
خبر کا کوڈ : 470769

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ، ایک جائزہ

ان جاہلوں کا خیال ہے کہ کتابوں کا وطنِ عزیز میں بڑا کاروبار ہے۔ کوئی ان سے پوچھے آپ نے کتنی مذہبی کتب خرید کر پڑھی ہیں۔ یہاں تو کتب کا عالم یہ ہے کہ مصنفین اور پبلشرز پلے سے پیسے لگا کر اور گھاٹا کھا کر کتابوں سے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ کسی تحقیقی و علمی کتاب پر آج کل کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے؟ اس کام سے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ، ایک جائزہ
تحریر: ڈاکٹر محمد شہباز منج

تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ کے عنوان سے پنجاب اسمبلی نے گذشتہ دنوں جو ایکٹ منظور کیا ہے، اس کی خبر اور اس کی بعض دفعات کے مندرجات کا تذکرہ پڑھنے سے میرا پہلا تاثر یہ بنا تھا کہ یہ ایکٹ جہالت کا بہترین نمونہ ہے، تاہم میں اس کے متن کو دیکھ کر اس پر کوئی تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا۔ اب متن دستیاب ہوا ہے تو اس کو پڑھ کر میرا تاثر یہ ہے کہ یہ صرف جہالت نہیں، بلکہ تکبر، ظلم اور فریب کا بھی مرکب ہے۔ آیئے ذرا اس کا مطالعہ کرکے دیکھیے: مذہبی حلقوں میں اس ایکٹ کے حوالے سے جس مسئلے پر نفیاً یا اثباتاً زیادہ بحث ہو رہی ہے، وہ ایکٹ کے سیکش 3 کی شق ایف اور سیکشن 8 کی شقوں 5 تا 11 میں بیان ہوا ہے۔ جاہلوں یا فریب دینے والوں کی طرف سے باور کرایا جا رہا ہے کہ اس ایکٹ میں تو بس دینِ اسلام، حضور نبی اکرمﷺ، آپ کی ازواج مطھرات اور اولاد، صحابہ کرام رضی اللہ عنہھم، اہلِ بیت، قرآن، صحف سماویہ وغیرہ مقدسات کا احترام یقینی بنایا گیا ہے اور یہ ایسا تاریخی اقدام ہے، جس پر پنجاب اسمبلی، اس کے سپیکر جناب پرویز الہیٰ، اراکینِ اسمبلی اور وزیراعظم پاکستان کو اسلام کے بہت بڑے محافظ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ملنا چاہیئے۔ (جی ہاں یہ مبالغہ نہیں ہے، اس پر حکمرانوں کے قصیدہ خواں متعدد علماء اور اسلام کے بہت سے نادان دوستوں کے ایسے تاثرات ریکارڈ پر موجود ہیں۔)

اگرچہ اس شق کا متن بھی اپنی جگہ جہالت یا فریب کا ایک عمدہ نمونہ ہے (جیسا کہ اس کی وضاحت آگے آرہی ہے)، لیکن ایک طبقے کے مذہبی سادہ لوح اس وجہ سے اس پر شادیانے بجا رہے ہیں کہ حضورﷺ کے نام کے ساتھ خاتم الانبیاء اور صحابی کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ وغیرہ لکھا جایا کرے گا اور دوسرے طبقے کے سادہ لوح اس پر نالاں ہیں کہ وہ بعض شخصیات کے ساتھ علیہ السلام نہیں لکھ سکیں گے۔ حالانکہ یہ دونوں انتہائی محدود اور فرقہ وارانہ سوچ سے بات کر رہے ہیں، فی الاصل مسئلہ اس سے زیادہ گہرا ہے اور دونوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ محولہ شقوں میں قرار دیا گیا ہے کہ حضورﷺ کے نام کے شروع میں خاتم الانبیاء، ہر صحابی کے نام کے بعد رضی اللہ عنہ اور نبی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جائے گا، اس سے بعض شیعہ دوست یہ سمجھے کہ اہلِ بیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام لکھنے سے ہمیں روکا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی سادہ لوحی ہے۔ اس لیے کہ آپ کے موقف سے مترشح ہوتا ہے کہ ان شخصیات کے ساتھ علیہ اسلام لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ حالانکہ اس کی اجازت سے بھی اصل مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟ اس ایکٹ کا سب سے قابلِ اعتراض بلکہ گھناؤنا پہلو ڈی جی پبلک ریلیشنز یا حکومت کے کسی بھی مجاز افسر کے کتابوں اور ان کے مواد سے متعلق آمرانہ اختیارات ہیں۔ ایکٹ کے اکثر سیکشن حکومتی افسران کے لا محدود اختیارات کے ذریعے کتابوں اور بالخصوص مذہبی کتب کی اشاعت و ترسیل کا گھلا گھونٹ رہے ہیں۔ کتنے افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ جس قوم میں کتاب کا پہلے ہی حال یہ ہے کہ پبلشر کسی کتاب کو چھاپنے سے پہلے ہزار دفعہ سوچتا ہے کہ اس کا خرچہ بھی پورا ہوگا یا نہیں، وہاں بیوروکریسی کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی کتاب کے کسی بھی لفظ پر اعتراض کرکے کتاب کی اشاعت یا اسے عوام تک پہنچانے کے اختیارات سلب کرسکتی ہے۔ یہ ایکٹ منظور ہو کر عمل میں آجاتا ہے، تو کتابوں کا کلچر جو پہلے ہی آخری سانسیں لے رہا ہے، اس کا جنازہ پڑھ لیجیے گا۔ سیکشن 7 کی شق ایک کی ذیلی شقوں(اے، بی اور سی) میں قرار دیا گیا ہے کہ ڈی جی پبلک ریلیشنز کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی بک ہاوس پر کسی بھی کتاب کو قابلِ اعتراض پا کر وہاں سے اٹھوا سکے گا۔ یہ تحقیق بھی اس کے اختیار میں ہوگی کہ کسی کتاب میں کوئی ایسا مواد تو نہیں پایا جاتا، جس میں ایکٹ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

اس سیکش کی شق 2 ڈی جی صاحب کو اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنے مذکورہ اختیارات میں سے کوئی بھی اختیار کسی بھی مجاز افسر کے سپرد کرسکتے ہیں۔(یعنی ڈی جی صاحب کا با اختیار بنایا ہوا کوئی مجاز افسر بھی وہی کارروائی کرسکے گا، جو ڈی جی صاحب کا اختیار ہے۔) اس ایکٹ کے سیکشن 4 کی شق 2 کے مطابق مجاز افسر پبلشر سے کتابوں سے متعلق جو تفصیل بھی پوچھنا چاہے، وہ دینے کا پابند ہوگا۔ اسی سیکش کی شق 3 کے مطابق ہر پبلشر پنجاب کے باہر سے آنے والی کتابوں سے متعلق مطلوبہ تفصیل مجاز افسر کو پندرہ دن کے اندر اندر دینے کا پابند ہوگا۔ ایکٹ کے سیکشن 5 کی رو سے جس دن کتاب چھپے اسی دن پبلشر کو اس کی چار کاپیاں ان افسروں کو اس جگہ مفت فراہم کرنی ہوں گی، جن کے لیے جس مقام پر گورنمنٹ کی مرضی ہو۔ ایکٹ کے سیکش 8 کی شق 1 کے مطابق کوئی کتاب ڈی جی صاحب کی اجازت کے بغیر پرنٹ کی جا سکتی ہے اور نہ درآمد کی جا سکتی ہے۔ اس سیکشن کی شق 2 کے مطابق کسی بھی کتاب کو چھاپنے کے لیے طے کردہ طریقے کے مطابق درخواست دینی ہوگی اور اس کی طے کردہ فیس جمع کرانی ہوگی۔

شق 3 کہتی ہے کہ ڈی جی صاحب ہر اس کتاب کی اشاعت روک سکتے ہیں، جس کو وہ قومی مفاد، کلچر اور مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف خیال کریں۔ ایکٹ کے سیکش 9 کی شق 1 کے رو سے کوئی بک سیلر یا پبلشر کوئی کتاب مجاز افسر کی طے کردہ طریقے کے مطابق منظوری کے بغیر فروخت نہیں کرسکے گا۔ اسی سیکشن کی شق 2 کے مطابق کوئی ایسی کتاب فروخت نہیں ہوسکے گی، جس میں زیرِ نظر ایکٹ کی کسی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ سیکش 10 کے مطابق پنجاب کی حدود میں شائع ہونی والی ہر کتاب کے لیے مجاز افسر کی طرف سے طے شدہ طریقے کے مطابق یونیک نمبر حاصل کرنا ہوگا۔ سیکشن 11 قرار دیتا ہے کہ سیکشن3 (جو قابل اعتراض مواد پر پابندی عائد کرتا ہے، سوائے اس کی شق ایف کے) کی خلاف ورزی پر پانچ سال سزا اور پانچ لاکھ تک جرمانہ ہوسکے گا۔ یہ سیکشن وضاحت کرتا ہے کہ سیکن3 کی شق ایف (جو مقدس شخصیات کے القاب سے بحث کرتی ہے) سے متعلق جرم پر پاکستان پینل کوڈ 1860ء کے مطابق سزا ہوگی۔

سیکش 12 کہتا ہے کہ اگر پبلشر سیکشن 5 کے مطابق کتابیں مجاز افسر تک پہنچانے میں ناکام رہا تو اس کو اس سے متعلق ہر غلطی پر کم از کم دس ہزار جرمانہ بھرنا ہوگا، مزید برآں ان کاپیوں کی قیمت جو عدالت طے کرے گی، اس کے مطابق رقم حکومت کے خزانے میں جمع کرانی ہوگی۔ سیکش 13 کے مطابق قابلِ ادا رقم گورنمنٹ کے مخصوص اکاؤنٹ میں پندرہ دن کے اندر اندر جمع کرانی ہوگی۔ اس میں کسی غلطی کی صورت میں یہ رقم لینڈ ریوینیو کے بقایا جات کے ساتھ قابلِ وصول ہوگی۔ بیوروکریسی کے ان اختیارات کی روشنی میں اب ذرا دوبارہ ان شقوں کی طرف آیئے جو مذہبی حلقوں میں زیربحث ہیں، یعنی سیکشن 3 کی شق ایف اور سیکشن 8 کی شقیں 5 تا 11۔ موخر الذکر شقوں کی رو سے حضورﷺ کے نام سے پہلے خاتم النبیین ، آخری نبی یا دی لاسٹ پرافٹ اور بعد میں عربی ٹیکسٹ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھنا ہوگا۔ کسی بھی نبی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھنا ہوگا۔ حضورﷺ کی بیویوں (جن کو مزے کی بات یہ ہے کہ ایکٹ کے متن میں ازواج مطھرات رضوان اللہ علیھم اجمعین لکھا گیا ہے، جس سے معلوم ہوسکتا کہ اتنے اہم ایکٹ کے الفاظ کی درستی پر کتنی توجہ دی گئی ہے!)کے ناموں سے پہلے امھات المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنہا لکھنا ہوگا۔

خلفائے راشدین کے ناموں سے پہلے خلیفۂ راشد یا امیر المومنین اور بعد میں رضی اللہ عنہ لکھنا ہوگا۔ حضورﷺ کے تین صاحبزادوں اور چار صاحبزادیوں کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہا یا رضی اللہ عنہ لکھنا ہوگا۔ آپﷺ کےا ہلِ بیت اور نواسے نواسیوں کے ناموں کے بعد رضی اللہ عنہ لکھنا ہوگا۔ کسی بھی صحابی کے نام کے بعد رضی اللہ عنہ اور صحابیہ کے نام کے بعد رضی اللہ عنہا لکھنا ہوگا۔ سیکش 3 کی شق ایف کی رو سے جو شخص اللہ تعالیٰ، حضورﷺ اور دیگر مذکورہ مقدس شخصیات، قرآن، تورات، زبور، انجیل، دینِ اسلام پر تنقید کرے گا یا ان کو ڈس ریپیوٹ کرے گا، اسے پاکستان پینل کوڈ 1860ء یا کسی اور قانون کی رو سے سزا دی جا سکے گی۔ سب احباب نوٹ فرما لیجیے کہ اس اوپر والے پیرے میں جو کچھ لکھا گیا ہے، یہ وہ تمام کا تمام مواد ہے، جس کی بنا پر اس ایکٹ کا نام مبارک "پنجاب تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ 2020ء" رکھا گیا ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اسلام کی پوری تاریخ میں اسلام کی بنیاد کے تحفظ کی اس سے بہتر کوئی مثال موجود ہے یا نہیں۔؟

شاہ کے کسی مصاحب کا ایک اخباری مضمون نظر سے گزرا، جس میں اس ایکٹ کی عبارات کی روشنی میں یہ ثابت فرمانے کی کوشش کی گئی تھی کہ یہ حکومت یا وزیراعظم کا ریاستِ مدینہ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ اگر کوئی شاہ کا مصاحب سمجھتا ہوتا تو پھر بھی بات نظر انداز کر دی جاتی، مگر رونا یہ ہے کہ تمام شاہ صاحبان بھی دھڑلے سے فرما رہے ہیں کہ ہم نے گویا اسلام اور مولویوں پر وہ احسان کیا ہے کہ قیامت تک ان سے اتارا نہ جا سکے گا۔ اس ایکٹ اور اس کریڈٹ لینے کے اندازِ شاہانہ سے ہم کو یہ اندازہ تو خوب خوب ہوگیا ہے کہ ہمارے قابلِ احترام شاہوں کا تصورِ ریاستِ مدینہ کتنا واضح اور پختہ ہے! یعنی ان کے نزدیک بس مقدس شخصیات کے ناموں کے ساتھ کچھ القاب لگانے سے ریاستِ مدینہ قائم ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں ان کے لیے انصاف، دیانت داری اور میرٹ وغیرہ حسنات، جن پر دین کے سارے فلسفے کا مدار ہے، کو یقینی بنانے اور اس ضمن میں سخت قانون سازی کرنے سے زیادہ اہم اس ایشو پر قانون سازی کرنا ہے، جس کا شریعت نے کہیں کوئی حکم نہیں دیا کہ فلاں نام کے ساتھ کتاب میں ہر جگہ فلاں لقب لکھا جائے۔۔۔ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے۔

حضورﷺ، صحابہ اور اہلِ بیت کا احترام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، اس سے ہر مسلمان واقف ہے، لیکن ان کے نام لکھتے ہوئے ہر جگہ مذکورہ القاب لگانا بھی ایمان کا حصہ ہے، یہ وحی پہلی دفعہ پنجاب اسمبلی پر نازل ہوئی ہے۔ ان کی وحی کے مطابق اسلامی تاریخ کی وہ تمام معتبر کتابیں گستاخانہ اور پابندی کے قابل ہیں، جن میں جگہ جگہ ان شخصیات کے نام ان القاب کے بغیر لیے گئے ہیں۔ اسلامی علمی تراث سے ذرا مس رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ان شخصیات کے پنجاب اسمبلی والوں سے ہزاروں گنا بڑھ کر احترام کرنے والے علماء، محدثین، مفسرین، کسی نے بھی اس التزام کو ضروری قرار نہیں دیا اور نہ خود اس کی پابندی کی۔ اس ایکٹ کے ذمے داروں نے اگر کوئی مذہبی کتاب لکھی یا پڑھی ہی ہو تو ان کو معلوم ہو کہ یہ التزام تکلیف مالایطاق ہے۔ پھر معاملہ اگر تکلیف و تکلف تک ہی محدود ہو تو اس پر بھی صبر کیا جا سکتا تھا، لیکن معاملہ شریعت میں ایک ایسے التزام کو ضروری قرار دینے کا ہے، جس کے ضروری ہونے کی کوئی بھی شرعی بنیاد موجود نہیں۔

ان جہلا یا فریبیوں کے مطابق مقدس شخصیات کا احترام القاب لگانے میں ہے، حالانکہ کوئی شخص یہ القاب لکھ کر بھی بدترین قسم کا گستاخ اور منکرِ ختمِ نبوت ہوسکتا ہے۔ مثلاً یہ خیال کہ خاتم النبیین لکھنے سے ختمِ نبوت کے منکروں کی حوصلہ شکنی ہوگی، نری جہالت یا دھوکہ ہے۔ قادیانی تو خود کہتے ہیں کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں، لیکن وہ خاتم النبیین لکھ کر بھی آپﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہی رہتے ہیں، اس لیے کہ وہ فی الواقع خاتم النبیین کی تشریح ایسی کرتے ہیں کہ آپ کے آخری نبی ہونے کا انکار ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ان کو روکنے کے خواہش مند ہیں تو صرف اس لفظ سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس سے پہلے یا بعد میں یہ وضاحت بھی کرنی پڑھے گی کہ خاتم النبیین اُس مفہوم میں جس میں مسلمان استعمال کرتے ہیں، نہ کہ قادیانیوں کے مفہوم میں اور یہ وضاحت کسی کتاب میں ہر جگہ شامل کرنے سے اس کتاب کا جو تماشا بنے گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں! قادیانیوں کے بعد متشککین اور ملحدین کی طرف آیئے، وہ دینِ اسلام اور مقدس شخصیات کا مذاق اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، لیکن لکھنے میں اپنے مقصود کی حکمت کے تحت ہر جگہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، علیہ السلام اور رضی اللہ عنہ بھی لکھتے رہتے ہیں، بلکہ بہت دفعہ ان کے انداز اور عبارت سے مترشح ہو رہا ہوتا ہے کہ وہ یہ القاب بہ طورِ طنز لکھ رہے ہیں۔ اب جناب آپ کے پاس کون سا پیمانہ ہے یہ جاننے کا کہ فلاں صاحب یہ تمام القاب لکھ کر بھی دین ِاسلام یا مذکورہ مقدس شخصیات کے گستاخ ہیں یا نہیں؟

مجاز افسر کو جو آمرانہ اختیارات دیئے گئے ہیں، ان کے نتائج پر ذرا غور فرمایئے۔ اس ایکٹ میں کہیں یہ تو نہیں لکھا کہ اہلِ بیت کے ساتھ آپ علیہ السلام نہیں لکھ سکتے، لیکن اگر مجاز افسر ایکٹ کی عبارت کی تعبیر یہ کرے کہ چونکہ ایکٹ میں صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ اور نبیوں کے لیے علیہ السلام لکھنا کا کہا گیا ہے اور فلاں آدمی نے اس سے مختلف لکھا ہے، لہذا اس کی کتاب قابلِ اعتراض ہے، اس پر پابندی لگا دی جائے، تو وہ اس پر پابندی لگانے کا مجاز ہوگا اور اگر افسر صاحب یہ تعبیر کریں کہ صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ تو کہا گیا ہے، لیکن ان کے لیے علیہ السلام سے منع نہیں کیا گیا، تو وہ آپ کو کتاب چھاپنے اور فروخت کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ گویا آپ افسر صاحب کی ڈسپوزل پر ہیں، چاہے تو وہ آپ کو کتاب چھاپنے دے، چاہے نہ چھاپنے دے۔ مزید برآں ملکی مفاد، کلچر، اخلاقیات اور مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق مواد پر کتاب ضبط کرنے کے اختیار کو ہمارے کلچر میں کس کس حربے سے افسران ناجائز استعمال نہیں کریں گے، یہ روزِ روش کی طرح عیاں ہے۔ اس اصول پر آپ مذہب ہی کی نہیں، کسی بھی موضوع پر کسی بھی کتاب پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ اس کے فلاں الفاظ یا فلاں سطور یا فلاں پیراگراف نظریۂ پاکستان یا قومی مفاد یا کلچر یا اخلاقیات یا مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف ہیں، لہذا یہ پبلش نہیں ہوسکتی یا فروخت نہیں کی جا سکتی۔

آپ مزید فرما رہے ہیں کہ تورات، زبور، انجیل وغیرہ پر تنقید یا ان کو ڈس ریپیوٹ کرنے پر سزا دی جائے گی۔ اس اصول کی رو سے قرآن بھی کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ثابت کرتا ہے کہ تورات و انجیل وغیرہ مذہبی کتب کو یہودیوں اور مسیحیوں نے بدل ڈالا ہے۔ وہ تمام علمی و تحقیقی کتابیں جو علماء نے لکھی ہیں اور یونیورسٹیوں کے تحقیقی مقالات پابندی کی زد میں آجاتے ہیں، جن میں ان کتب کی تاریخی حیثیت پر بحث و تنقید کرکے قرآن کی برتری ثابت کی گئی ہے۔ وہ تمام تفاسیر بھی اس زد میں آتی ہیں، جن میں آیات قرآنی کی تفاسیر کے دوران ان کتب پر ناقدانہ بحثیں کی گئی ہیں۔ اس لیے کہ یہ سب چیزیں ان کتابوں کو ڈس ریپیوٹ کرتی ہیں۔ وہ تمام کتابیں جو مسلمانوں نے یہودیوں اور مسیحیوں اور اسلام کے مغربی ناقدین کے تاریخی اور اسلام مخالف رویوں کے ناقدانہ جائزے پر لکھی ہیں، وہ سب مذہبی ہم آہنگی کے خلاف قرار دی جا سکیں گی۔ ہر وہ کتاب جس میں کسی مسلم ناقد نے کسی مسلم گروہ یا شخص کے عقائد و نظریات پر گرفت کی ہے، مسلکی ہم آہنگی کے خلاف قرار دی جا سکے گی۔ ہر وہ کتاب جس میں کسی ادارے کی کسی روش پر تنقید کی گئی ہو ملکی مفاد کے خلاف قرار دی جا سکے گی۔ ہر وہ افسانہ یا ناول بھی جس میں افسر صاحب سمجھیں کہ ان کے تصورِ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے، پابندی کی زد میں آسکے گا۔

خلاصہ یہ کی مجاز افسر صاحب جس کتاب کی اشاعت روکنا چاہیں گے، اس پر اعتراض کرکے اس کو روک سکیں گے۔ یہ صورت حال مرتے ہوئے کتاب کلچر اور بالخصوص مذہبی کتب کے کلچر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ یہ ہے وہ ایکٹ جس کے ذریعے اسلام کی بنیاد کا وہ تحفظ فرمانا مقصود ہے، جس کی مثال پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی۔ فریب بالائے فریب اور ظلم بالائے ظلم دیکھیے کہ میڈیا اور مولویوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایکٹ تو صرف صلی اللہ علیہ وسلم، رضی اللہ عنہ اور علیہ السلام لکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ ابھی جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں 92 نیوز پر یہ خبر چل رہی کہ پنجاب اسمبلی نے یہ ایکٹ پاس کیا ہے، جس میں حضورﷺ کے لیے خاتم النبیین اور امھات المومنین اور دیگر صحابہ کے لیے رضی اللہ عنہ لکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اب اس کو سننے والا ہر آدمی سمجھے گا کہ یہ بڑا مبارک کام ہے۔ لیکن اس مبارک کام کے حسین نام کے نیچے جو گھناؤنا کاروبار ہے، اس کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ایکٹ کے مندرجات اور واضح نتائج کا خلاصہ میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ دیانت داری سے بتایئے اس ایکٹ کو "تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ" کس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے۔! حق یہ ہے کہ اس ایکٹ کا یہ نام اگر جہالت نہیں ہے تو دھوکہ ضرور ہے۔ ان مذہبی حلقوں کی سادہ لوحی پر افسوس ہے، جو اس جہالت یا فریب کو اسلام کی خدمت سمجھ رہے ہیں اور ان شیعہ حضرات کی سادہ لوحی پر بھی جن کو اس میں صرف یہ مسئلہ نظر آتا ہے کہ آئمۂ اہلِ بیت کے لیے علیہ السلام نہیں لکھا جا سکے گا، حالانکہ حقیقتاً اس کی واضح اجازت مل جانے پر بھی یہ ایکٹ اسی طرح جہالت، فریب، تکبر اور ظلم کا مرکب رہے گا، جیسا کہ پہلے ہے۔ کتابوں اور بالخصوص مذہبی کتب سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کو اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنا چاہیئے اور اگر یہ لاگو ہو جاتا ہے تو اس کو کورٹ مین چیلنج کرنا چاہیئے۔ یہ ایکٹ ہر مصنف اور بہ طور خاص مذہبی مصنفین اور پبلشرز کے اوپر بے لگام فرعون بٹھا دے گا۔ جن کے ہوتے ہوئے کوئی مصنف کتاب لکھنے اور کوئی پبلشر اسے چھاپنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

ان جاہلوں کا خیال ہے کہ کتابوں کا وطنِ عزیز میں بڑا کاروبار ہے۔ کوئی ان سے پوچھے آپ نے کتنی مذہبی کتب خرید کر پڑھی ہیں۔ یہاں تو کتب کا عالم یہ ہے کہ مصنفین اور پبلشرز پلے سے پیسے لگا کر اور گھاٹا کھا کر کتابوں سے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کتابیں چھاپ رہے ہیں۔ کسی تحقیقی و علمی کتاب پر آج کل کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے؟ اس کام سے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ کوئی کتاب چھاپ لیں تو سوچتے رہتے ہیں کہ اس کا آدھا تو چلیں پلے سے ڈال لیں گے، آدھا خرچہ تو نکلے گا یا نہیں؟ اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مصنف کتاب لکھنے اور پبلشرر چھاپنے سے بالکل ہاتھ کھینچ لیں گے۔ واضح رہے کہ مذہبی کتابیں ہی نہیں افسران صاحبان کو جو اختیارات دیئے گیے ہیں اور جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان کی رو سے شاعری، ڈرامہ، ناول، ادبی تنقید وغیرہ کسی بھی کتاب کو روکا جا سکے گا، بس اتنا چاہیئے کہ مجاز افسر صاحب کَہ دیں کہ اس میں ایکٹ کے کسی لفظ یا حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

یہ القاب کو لازمی کرنے کی حرکت کتنی مضحکہ خیز ہے (اس ضمن میں ہمارے ایک مضمون بعنوان "اللہ اور خدا" کا مطالعہ بھی بہت مفید ہوگا، جو ہم نے اسلام کے کچھ اسی قبیل کے نادان دوستوں کے اس تصور اور اس سے بحث کرتی ایک کتاب کی تردید میں لکھا تھا کہ اللہ کو خدا نہیں کہا جا سکتا۔) اس کے حوالے سے چند نکات پر غور کیجیے۔ یہ القاب مسلمانوں نے بعد کے ادوار میں اپنی اپنی عقیدت اور محبت کے انداز میں لگانا شروع کیے، ابتدائی کتابوں میں بڑی روانی کے ساتھ مقدس شخصیات کے نام ان سب القاب کے بغیر عام لیے جاتے تھے اور قدیم کتب میں اب یہ نام ان القاب کے بغیر موجود ہیں۔ کبھی بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ فلاں جگہ چونکہ یہ لقب نہیں لکھا ہوا، لہذا یہ گستاخی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ القاب اصل میں ہم عجمیوں کا رواج ہیں، ہم یہ اپنے مخصوص اندازِ عقیدت و محبت میں لگاتے ہیں اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اچھی بات ہے، لیکن اس کو لازم کرنا شریعت میں ایک ایسے امر کو لازم کرنا ہے، جس کو لازم کرنے کی شریعت میں کوئی گنجایش نہیں۔ دوسرے لفظوں اپنی محبت میں ان القاب کو استعمال کرنا تو مستحسن ہے، لیکن ان کو شرعاً لازم کہنا غلط بلکہ بدعت ہے۔( اس لیے کہ بدعت دین میں اسی چیز کو لازم کرنے کو کہا جاتا ہے، جس کو لازم کرنے کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہ ہو۔)

شعر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر حضورﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ ہر جگہ عربی ٹیکسٹ میں صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور شروع میں خاتم النبیین لکھا جائے تو شعر ایک عجیب و غریب شکل اختیار کر لیتا ہے، اس کا وزن بھی خراب ہو جاتا ہے اور جس سپیس میں وہ لکھا جاتا ہے، اس کو اس فونٹ میں لکھنے کی گنجایش ہی نہیں ہوتی۔ چلو آیندہ نسلوں کے زبان و بیان اور ذوقِ شعر و سخن کا آپ نے بیڑا غرق کرنا ہے تو کر لیں، لیکن کلیات ِ اقبال، میاں محمد بخش اور دیگر مایہ ناز اردو اور پنجابی شاعروں کے کلام کا کیا کریں گے؟ مثلاً اقبال کا مصرعہ "کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں۔۔۔" آپ کو کلیات ِ اقبال میں یوں لکھنا ہوگا۔۔۔"کی خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں۔" اگر کلیاتِ اقبال کو یہ لکھے بغیر آپ چھپنے اور فروخت ہونے کی اجازت دیں گے تو اسی طرز پر کسی اور کتاب کو کیسے روک سکیں گے؟ یہ آپ کے لیے چیلنج ہوگا، جب تک ان سب کی کتابوں کی اصلاح نہیں ہوگی، ان کے حوالے دینے والوں اور ان کو اپنا رہنما اور موٹیویٹر سمجھنے والوں کی اصلاح آپ کیسے کرسکیں گے۔؟

اور ہاں یاد آیا وہ ڈس ریپیوٹ کرنے والی عبارت میں آپ نے اللہ کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ تو جناب آپ کو اقبال کے ایسے بہت سے اشعار بھی نظر آئیں گے، جو بادی النظر میں اللہ کو ڈس ریپیوٹ کرتے ہیں۔ مثلاً ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں۔۔ اپنا دامن چاک یا دامن ِ یزداں چاک ۔۔۔ کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب اشعار آپ کے سیکشن 3 کی شق ایف کی خلاف ورزی کی زد میں آتے ہیں، ان پر آپ کو پابندی لگانی ہوگی۔ (اور ہاں یہ بھی جان رکھیے کہ بعد والوں کے معاملے میں تو ابھی آپ کو تحقیق کرنی پڑے گی کہ ان میں خدا کو ڈس ریپیوٹ کیا گیا ہے یا نہیں، اقبال کے اس قبیل کے اشعار سے متعلق آپ کو یہ سہولت میسر ہے کہ ہمارے کئی علماء و مفسریں نے پہلے ہی تحقیق فرما رکھی ہے کہ یہ اشعار کفریہ ہیں اور خدا کی گستاخی پر مبنی ہیں۔)
http://www.taghribnews.com/vdccexq0o2bqmm8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس