تاریخ شائع کریں۷ مرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۴۷
خبر کا کوڈ : 470762

امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے

سید عباس موسوی نےکہا کہ امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہمارے لیے یہ بات اہم نہیں کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں کون اقتدار میں آئے گا بلکہ امریکی حکومت کا طرز عمل اور اقدامات، اہم ہیں
امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے
سید عباس موسوی نےکہا کہ امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہمارے لیے یہ بات اہم نہیں کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں کون اقتدار میں آئے گا بلکہ امریکی حکومت کا طرز عمل اور اقدامات، اہم ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپئو کی جانب سے ایران کے ہتھیاروں پر پابندیوں سے متعلق دعوے پر کہا کہ ایران نے اپنے دوست اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ ایران کسی بھی طور پر امریکی دباو میں آکر اپنے قانونی حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا جس کی تاکید قرارداد 2231  میں بھی کی گئی ہے اور امریکہ، ایرانی اسلحے پر پابندی کو جاری رکھنے کے اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوگا۔

سید عباس موسوی نےکہا کہ امریکیوں کے قول و فعل میں تضاد ہے اور ہمارے لیے یہ بات اہم نہیں کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں کون اقتدار میں آئے گا بلکہ امریکی حکومت کا طرز عمل اور اقدامات، اہم ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی افغان مذاکرات، افغان حکومت کی قیادت میں ہونے چاہئے اسی لیے ہم اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے امریکی نمائندے برائے افغان امن امور زلمی خلیل زاد کے اس دعوے پر کہ ایران افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت نہیں کررہا، کہا کہ خطے خصوصا افغانستان میں تعاون کے بارے میں امریکی حکام صداقت سے کام نہیں لے رہے اور ہم خطے میں ان کی موجودگی کو خاص طور پر افغانستان میں عدم استحکام اور عدم تحفظ کا سبب سمجھتے ہیں۔

سید عباس موسوی نے شامی حدود میں حالیہ دنوں میں امریکی لڑاکا طیاروں کی جانب سے ایرانی مسافربردار طیارے کو ہراساں کرنے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس واقعہ کے حوالے سے مکمل رپورٹ آئے تو ہم قانونی کارروائی کے علاوہ اس معاندانہ اقدام کا مناسب جواب بھی دیں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جنوبی کوریا سے قرضوں کی وصولی کے لئے ایران کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرجنوبی کوریا یہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے تو اسے چاہئیے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات میں کسی تیسرے فریق کو مداخلت کرنے کی اجازت نہ دے۔
http://www.taghribnews.com/vdcfvxdj0w6deea.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس