تاریخ شائع کریں۲۱ تير ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۹:۱۳
خبر کا کوڈ : 468915

ابطال العراق فوجی آپریشن کا چوتھا مرحلہ سنیچر سے شروع

آپریشن کا مقصد ایران سے ملحقہ عراق کے سرحدی علاقوں میں ممکنہ طور پر چھپے ہوئے داعشی دہشتگردوں کا پتہ لگا کر اس علاقے سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہے۔
ابطال العراق فوجی آپریشن کا چوتھا مرحلہ سنیچر سے شروع
عراق کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر جنرل عبدالامیر کامل نے کہا ہے کہ ابطال العراق فوجی آپریشن کا چوتھا مرحلہ سنیچر سے شروع کر دیا گیا ہے ۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگردوں کی باقیات کا صفایا کرنا ، صوبہ دیالہ میں امن و استحکام قائم کرنا اور اسلامی جمہوریہ ایران سے ملحقہ عراق کے سرحدی علاقوں میں ممکنہ طور پر چھپے ہوئے داعشی دہشتگردوں کا پتہ لگا کر اس علاقے سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا ہے۔

عراق کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ یہ کارروائیاں عراق کے وزیر اعظم اور عراقی مسلح افواج کے سربراہ مصطفی الکاظمی کے حکم سے شروع ہوئی ہیں اور ان کارروائیوں میں بری فوج، صوبہ صلاح الدین اور سامراء کی آپریشنل کمانڈ اور الحشدالشعبی کے جوان شامل ہیں اور عراقی فضائیہ ان کی مدد کر رہی ہے۔

دراین اثنا عراق کی عوامی رضا کار فورس الحشدالشعبی کے سربراہ فالح الفیاض نے موصل کی آزادی میں حشدالشعبی کے جوانوں کے اہم کردار اور مرجعیت کے فتوے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عراقی فوجیوں کے درمیان ہماہنگی و یکجہتی کی قدردانی اور تعریف کی۔

انھوں نے موصل پر داعش کے قبضے کے خاتمے اور اس کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اگر حشدالشعبی کے جوان مرجعیت کے فتوے پر لبیک کہتے ہوئے آگے نہ بڑھے ہوتے تو داعش دہشتگرد گروہ پر فتح و کامیابی حاصل نہ ہوتی ۔

عراق کے وزیر اعظم نے بھی داعش کے خلاف جہاد کے بارے میں آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کو فیصلہ کن کردار کا حامل اور اصولی قرار دیا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی مسلح افواج خاص طور پر عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے جوانوں کی مجاہدت کی قدردانی کی ۔

عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے داعش کے تسلط سے موصل کی آزادی کو عراقی تاریخ کا ایک ایسا باب قرار دیا جسے عراقی عوام نے اپنے ملک کی ارضی سالمیت کے دفاع کی راہ میں قومی اتحاد و یکجہتی اور اپنے جوانوں کی جانفشانیوں اور قربانیوں سے رقم کیا ہے۔

مصطفی الکاظمی نے عراق کے مرجع وقت کے موقف کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کے جوانوں کی شجاعت و دلیری قابل تعریف ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہم ان تمام ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کی ۔

یاد رہے کہ داعش دہشتگرد گروہ نے دس جون دوہزار چودہ کو عراق کے صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا تھا۔ موصل عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے جو دارالحکومت بغداد سے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

شہر موصل کو عراقی جوانوں نے دو جولائی دوہزار سترہ کو داعش کے قبضے سے پوری طرح آزاد کرا لیا تھا۔عراق میں داعش دہشتگردوں کی شکست کے باوجود اس کی باقیاب اب بھی اس ملک میں موجود ہیں ۔

عراق کی فوج اور الحشدالشعبی کے جوانوں نے ملک کے مختلف علاقوں سے داعشی دہشتگردوں کا صفایا کرنے کے لئے اب تک متعدد کارروائیاں انجام دی ہیں اور ان کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔
http://www.taghribnews.com/vdccs4q0p2bqeo8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس