تاریخ شائع کریں۱۲ تير ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۲:۰۵
خبر کا کوڈ : 467957

عالمی تعاون کے باوجود یمن میں سعودی عرب کو شکست کا سامنا

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کو یمن پر مسلط کردہ جنگ میں عالمی سطح پر اتنی بڑی فوجی امداد حاصل ہونے کے باوجود شکست اور ناکامی کا سامنا ہے کیونکہ یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں کی پشت پر اللہ تعالی کا قدرتمند ہاتھ موجود ہے
عالمی تعاون کے باوجود یمن میں سعودی عرب کو شکست کا سامنا
با خبر ذرائع نے فاش کیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ ظالمانہ اور مجرمانہ جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، اسرائیل اور امریکہ شریک ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی نے سعودی عرب کے فوجی اتحاد سے وابستہ با خبر ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ ظالمانہ اور مجرمانہ  جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے والے ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، اسرائیل اور امریکہ مکمل طور پر شریک ہیں جبکہ اس جنگ میں سعودیہ کو پاکستان اور بعض دیگر ممالک کی محدود پیمانے پر فضائی حمایت حاصل ہے۔

یمن پر مسلط کردہ جنگ میں مکمل طور پر شرکت کرنے والے ممالک میں سعودی عرب ، امارات، بحرین، اسرائیل اور امریکہ شامل ہیں۔

یمن پر سعودیہ کی مسلط کردہ جنگ مین فضائی حمایت کرنے والے ممالک میں کویت، مصر، اردن اور مراکش شامل ہیں۔

کویت مالی امداد بھی فراہم کررہا ہے جبکہ مصر بحری سطح پر بھی تعاون کررہا ہے۔ سوڈان کی بری فوج یمن میں سعودیہ کی حمایت میں لڑ رہی ہے۔

سنیگال ، مالی، کینیا اور کلمبیا بھی اس جنگ میں سعودی عرب کی حمایت کررہے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس سعودی عرب کو فوجی اور انٹیلیجنس معلومات فراہم کررہے ہیں۔

جرمنی، فرانس، کینیڈا اور اٹلی ہتھیاروں کے ذریعہ سعودی عرب کو مدد فراہم کررہے ہیں۔ برازیل کلسٹر بموں کے ذریعہ سعودی عرب کو مدد پہنچا رہا ہے جبکہ پاکستان بھی محدود پیمانے پر سعودی عرب کی فضائی مدد کررہا ہے اور سعودی فوجیوں کو تربیت بھی فراہم کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک، آسٹریا، سویڈن اور فن لینڈ بھی سعودی عرب کے فوجی اتحاد کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب کو یمن پر مسلط کردہ جنگ میں عالمی سطح پر اتنی بڑی فوجی امداد حاصل ہونے کے باوجود شکست اور ناکامی کا سامنا ہے کیونکہ یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں کی پشت پر اللہ تعالی کا قدرتمند ہاتھ موجود ہے۔ اللہ تعالی مظلوم قوموں کے ساتھ ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdchmqnkq23n-wd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس