تاریخ شائع کریں۱۱ تير ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۶:۴۵
خبر کا کوڈ : 467841

کاواساکی سنڈروم (کے ڈی)5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

کاواساکی بیماری بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کے انفیکشن کی پیچیدگیاں ہیں، کیسز نے پورے ملک میں ماہر امراض اطفال کو پریشان کردیا ہے۔
کاواساکی سنڈروم (کے ڈی)5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔
کاواساکی بیماری (کے ڈی) جیسی علامتوں والی بیماریوں کے کیسز جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد کے انفیکشن کی پیچیدگیاں ہیں، ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آنے لگیں۔

رپورٹ کے مطابق لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف چلڈرن ہیلتھ/چلڈرن ہسپتال میں اس طرح کے تین کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ چند دیگر کی اطلاعات کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی سے آئی ہیں۔

ان کیسز نے پورے ملک میں ماہر امراض اطفال کو پریشان کردیا ہے۔ اس بیماری، جسے کاواساکی سنڈروم (کے ڈی) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نامعلوم ایٹیولوجی کی شدید فبرائل بیماری ہے جو بنیادی طور پر 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

اس بیماری کو سب سے پہلے جاپان میں ٹومیساکو کاواساکی میں 1967 میں دریافت کیا گیا تھا۔جاپان سے باہر پہلی بار 1976 میں ہوائی یہ بیماری سامنے آئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کے ڈی کی کلینیکل علامتوں میں بخار، خارش، ہاتھوں اور پیروں میں سوجن، آنکھوں کے سفید حصے میں جلن اور سرخ ہونا، گردن میں سوجن، لمف غدود اور منہ، ہونٹوں، اور حلق میں جلن اور سوزش شامل ہیں۔

ہسپتال کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے ڈان کو بتایا کہ یہ ہمارے لیے بہت پریشانی کی بات ہے کہ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں کے ڈی نما جیسی سنڈروم میں سامنے اور دیگر کیسز را راولپنڈی/اسلام آباد اور کراچی سے سامنے آرہے ہیں۔

واضح رہے کہ نایاب اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کے علاج کے لیے آئی سی ایچ لاہور پاکستان میں عوامی شعبے کی سب سے بڑی سہولت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاواساکی جیسے مرض کا پھیلاؤ پاکستان جیسے ممالک میں ہوسکتا ہے جو سارس-کوو-2 وبائی مرض سے متاثر ہو چکے ہیں جسے عام طور پر کووڈ-19 کے لیے ذمہ دار کورونا وائرس 2 کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگی کو محفوظ بنانے اور اس نئی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پورے ملک میں پیڈیاٹرکس کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcjxaexvuqemoz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس