تاریخ شائع کریں۱۰ تير ۱۳۹۹ گھنٹہ ۵:۳۳
خبر کا کوڈ : 467657

یمن میں جاری بحران کو حل کرنا اقوام متحدہ کی طاقت سے باہر ہے.

سعودی اتحاد کی یمن میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کی نگران ٹیم کی جانب سے مسلسل خاموشی تشویشناک امر ہے۔
یمن میں جاری بحران کو حل کرنا اقوام متحدہ کی طاقت سے باہر ہے.
یمن پر سعودی عرب کی زیرنگرانی اتحادی ممالک کی پانچ سال سے جاری لشکرکشی اور یمن کے اندر مختلف دھڑوں میں کشیدگی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس سلسلے میں ظاہری طور پر کوششوں میں مصروف ہیں لیکن عملی طور پورے یمن میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

شمال اور مرکزی صوبوں میں سعودی اتحاد اور انصاراللہ کے درمیان کئی صوبوں میں گھسان کی جنگ جاری ہے۔ الجوف، مأرب اور البیضاء انصاراللہ نے مستعفی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے خلاف کئی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جنوبی علاقوں میں عبوری کونسل اور منصور ہادی کے دستے کئی مہینوں سے مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔

یمن کے اعلی حکام اور بین الاقوامی مبصرین اقوام متحدہ پر اس سلسلے میں کردار ادا نہ کرنے پر مسلسل تنقید کررہے ہیں۔ یمن کے ایران میں سفیر ابرہیم الدیلمی نے کہا کہ یمن میں جاری بحران کو حل کرنا اقوام متحدہ کی طاقت سے باہر ہے۔ عالمی ادارہ اپنی جانبدارنہ حرکتوں اور امتیازی سلوک کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اپنا اعتماد کھوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی اتحاد یمن میں مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے لیکن اقوام متحدہ کی نگران ٹیم کی جانب سے مسلسل خاموشی اختیا کی گئی ہے جوکہ تشویشناک امر ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس