تاریخ شائع کریں۸ تير ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۱۸
خبر کا کوڈ : 467487

بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر کا 'غیرقانونی' ڈومیسائل جاری، پاکستان نے مسترد کردیا

پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے ہزاروں شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا غیرقانونی ڈومیسائل دینے کے اقدام کو مسترد کر دیا۔
بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر کا
پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے ہزاروں شہریوں کو مقبوضہ کشمیر کا غیرقانونی ڈومیسائل دینے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اس کو متنازع خطے کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش قرار دے دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی عہدیداروں سمیت غیر کشمیریوں کو 2020 کے متنازع قانون کے تحت دستاویزات جاری کرنا غیرقانونی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ ترک نیوز ایجنسی 'انادولو' نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مسلم اکثریتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں 18 مئی سے تقریباً 25 ہزار غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مقامی سیاست دانوں کا ماننا ہے کہ یہ خطے کو جغرافیائی سطح پر تبدیل کرنے کا آغاز ہے۔

ڈومیسائل سرٹیفکیٹ شہریت طرز کے حقوق ہیں جس کے تحت ڈومیسائل حاصل کرنے والا فرد خطے میں رہائش اختیار کرنے اور سرکاری نوکری حاصل کرسکتا ہے، جبکہ اس سے قبل یہ صرف مقامی افراد کے لیے مخصوص تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی کے تازہ اقدامات سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت کا اصل مقصد 5 اگست 2019 کے اقدامات سے خطے کی جغرافیائی صورت حال اور کشمیریوں کو اپنی سرزمین میں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ آرایس ایس-بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ رہا ہے جبکہ کشمیریوں نے بھی بوگس ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ کو مسترد کردیا ہے'۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کا کشمیر کی جفرافیائی حیثیت تبدیل کرکے مقامی افراد کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی آزادانہ اور غیر جانبدار رائے دہی کے حقوق سے محروم کرنے کا ارادہ ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس