تاریخ شائع کریں۱۷ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۹:۲۰
خبر کا کوڈ : 465085

سی ٹی ڈی کی کامیاب کاروائی،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم دہشتگرد کمانڈر گرفتار

کراچی: سی ٹی ڈی نے پولیس اور سیاسی رہنماؤں پر حملوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد جان عالم کو گرفتار کرلیا ہے۔
سی ٹی ڈی کی کامیاب کاروائی،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم دہشتگرد کمانڈر گرفتار
پاکستان: کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ آپریشن 2 کے ایس پی ملک الطاف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دہشت گرد جان عالم کئی برس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا، دہشت گرد جان عالم نے افغانستان میں تربیت حاصل کی اور پریشر ککر بم ، ٹینس بال بم اور موٹر سائیکل بم بنانے کا ماہر ہے، ملزم کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ملا فضل اللہ گروپ کے کمانڈر شیر بہادر کی ہلاکت کے بعد کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، دہشت گرد جان عالم کے 3 دوسرے ساتھیوں کے نام سی ٹی ڈی کی ریڈ بک میں بھی شامل ہیں۔ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں کئی وارداتوں اور بھتہ خوری کا بھی اعتراف کیا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گرد جان عالم نے فرنٹیئر کالونی میں کرائے کی جگہ لے رکھی تھی جہاں وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور بارودی مواد سے بم تیار کیے جاتے تھے، دہشت گرد جان عالم ضلع غربی کے علاقوں میں زیادہ سرگرم رہا ہے۔

دہشت گرد جان عالم نے 2013 میں مومن آباد تھانے کے قریب امام بارگاہ عزا خانہ کوثر پر دو بم دھماکے کیے تھے جبکہ مومن آباد تھانے پر 2016 میں ہینڈ گرنیڈ سے حملے میں بھی ملوث رہا ہے ۔

2013 میں عائشہ منزل کے قریب موٹر سائیکل بم دھماکا کیا جبکہ اس کے علاوہ انسپکٹر شفیق تنولی پر خودکش حملے میں بھی ملوث رہا ہے، دہشت گرد جان عالم نے ڈی ایس پی بہائو الدین بابر پر بھی حملہ کیا تھا جس میں وہ شہید ہوگئے تھے۔

دہشت گرد جان عالم نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر جان پر بم دھماکے کے ذریعے حملہ کیا جس میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے، اس کے علاوہ ملزم پیرآباد ، سائٹ ایریا اور دیگر علاقوں میں پولیس اہلکاروں اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کے متعدد قتل میں بھی ملوث رہا ہے ۔

دہشت گرد جان عالم نے 2014 میں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن امیر سردار کی قبر پر پریشر ککر کے ذریعے بم دھماکا بھی کیا تھا ، سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد جان عالم کے قبضے سے اسلحہ اور ہینڈ گرنیڈ برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ اس سے مزید تفتیش جاری ہے جس میں کئی اہم انکشافات متوقع ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس