تاریخ شائع کریں۱۵ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۳۷
خبر کا کوڈ : 464902

اسرائیل مذاکرات اور امن کی زبان نہیں سمجھتا

اسرائیل مذاکرات اور امن کی زبان نہیں سمجھتا لہذا ایسے ملک کے ساتھ صلح کی باتیں زمینی حقائق کے انکار کے مترادف ہے۔
اسرائیل مذاکرات اور امن کی زبان نہیں سمجھتا
فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مغربی کنارے میں کشیدگی اور جھڑپوں میں اضافے کے  بعد عالمی طاقتیں دونوں کے درمیان مذاکرات کے لئے کوشش کررہی ہیں۔ اسرائیل مذاکرات کے بہانے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک پس پردہ اسرائیل کو عزائم کی حمایت کررہے ہیں۔

فلسطین کے وزیرخارجہ ریاض المالکی نے مذاکرات کی  کوششوں سے اتفاق کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ صلح کے لئے بات چیت ہوسکتی ہے۔ وزیرخارجہ کے بیانات پر شدید ردعمل دکھایا جارہا ہے۔

فسلطین کی آزادی کی تنظیم پاپولر لبریشن فرنٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات اور امن کی زبان نہیں سمجھتا لہذا ایسے ملک کے ساتھ صلح کی باتیں زمینی حقائق کے انکار کے مترادف ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنظیم نے ایک بیان میں کہا  کہ صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات ایک خطرناک عمل ہے۔ فلسطینی مزاحمتی جماعتیں اسرائیل کے خلاف جدوجہد کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔ محمود عباس اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی بات نہ کرے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس