تاریخ شائع کریں۱۵ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۶:۰۶
خبر کا کوڈ : 464873

امریکا: 10 ہزار مظاہرین گرفتار

امریکا:پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 10 ہزار افراد کو گرفتار کرلیا
امریکا: 10 ہزار مظاہرین گرفتار
امریکا میں پولیس کے ہاتھوں غیر مسلح سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباً 10 ہزار افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں لاس اینجلس اور نیویارک سمیت متعدد امریکی شہروں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے گزشتہ ہفتے منی سوٹا میں 46 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا۔

علاوہ ازیں امریکا کی متعدد ریاستوں میں پھیل جانے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک تاریخی چرچ جانے والے مذہبی رہنماؤں اور مظاہرین پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جارج فلائیڈ کی موت میں ملوث چاروں پولیس افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

تاہم ابھی تک صرف ایک سفید فام پولیس افسر ڈیریک چاوین کے خلاف تھرڈ ڈگری مرڈر کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ڈیریک چاوین نے ہی جارج فلائیڈ کی گردن پر پوری طاقت سے 9 منٹ تک گھٹنا ٹکائے رکھا تھا جس سے سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کی کوریج کے لیے موجود صحافیوں کو تشدد کا سامنا ہے۔

اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے واشنگٹن، لاس اینجلس اور ہیوسٹن سمیت دیگر شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن مظاہرین نے کرفیو کو مسترد کردیا۔

دوسری جانب پوپ فرانسس نے امریکا میں بدامنی پر اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی نسل پرستی سے اپنی نظریں نہیں چرا سکتا۔
 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس