تاریخ شائع کریں۱۵ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۵:۴۷
خبر کا کوڈ : 464869

پاکستان میں کورورنا کیسز چین سے زیادہ ہوگئے

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد خطرناک صورتحاک کی طرف جارہی ہے اور 2 دن سے یومیہ 4 ہزار سے زائد کیسز آنے کے بعد ملک کے مجموعی کیسز کی تعداد چین کے متاثرین سے زیادہ ہوگئی ہے
پاکستان میں کورورنا کیسز چین سے زیادہ ہوگئے
پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد خطرناک صورتحاک کی طرف جارہی ہے اور 2 دن سے یومیہ 4 ہزار سے زائد کیسز آنے کے بعد ملک کے مجموعی کیسز کی تعداد چین کے متاثرین سے زیادہ ہوگئی ہے۔

اب تک ملک میں سامنے آنے والے ان کیسز کی مجموعی تعداد 85 ہزار 264 ہوچکی ہے جبکہ 1770 افراد اس وائرس سے لقمہ اجل بنے ہیں۔

آج ابھی تک سامنے آنے والے نئے کیسز کی تعداد 2017 ہے جبکہ 41 اموات بھی ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس کے آخر میں چین کے شہر ووہان کی ایک سی فوڈ مارکیٹ سے اس وائرس کا آغاز ہوا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا تک پھیل گیا اور چین میں اس کے کیسز کی مجموعی تعداد 84 ہزار 160 ہے۔

پاکستان میں اس وائرس کا پہلا کیس فروری کے آخر یعنی 26 تاریخ کو کراچی میں سامنے آیا جس کے بعد یہ آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیل گیا تاہم اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر کراچی ہی ہے۔

شروع میں اس وائرس کے پھیلاؤ اور کیسز کی تعداد میں کمی تھی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا گیا اور اب صورتحال تشویشناک دکھائی دے رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 26 فروری سے 31 مارچ تک ایک ماہ سے زائد عرصے میں ملک میں کیسز کی تعداد تقریباً 2 ہزار تھی جبکہ 26 اموات ہوئی تھیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے پہلی موت کی تصدیق 18 مارچ کو ہوئی تھی۔

بعد ازاں اپریل کے مہینے میں اس وائرس کے کیسز بڑھنا شروع ہوئے اور ایک ماہ کے عرصے میں تعداد ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ اموات بھی 385 تک پہنچ گئیں۔

تاہم مئی کے مہینے میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور ایک ماہ کے دوران کیسز کی تعداد میں 54 ہزار کا اضافہ ہوا اور یہ 71 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ 1100 سے زائد اموات نے اس تعداد 1520 تک پہنچا دیا۔

جون کا آغاز بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال سے ہوا تاہم گزشتہ 3 دنوں کے دوران 12 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے جبکہ 200 سے زیادہ لوگ زندگی کی بازی ہار گئے۔

آج (4 جون) کو بھی ملک میں نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم صحتیاب ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی جو لوگوں کے لیے ایک امید کا باعث ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس