تاریخ شائع کریں۱۳ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۹:۴۳
خبر کا کوڈ : 464650

امریکہ: احتجاج کو روکنے کے لیے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد فسادات میں مزید شدت

ڈونلڈ ٹرمپ کے فوج بھیجنے کے بیان کے بعد احتجاج میں شدت آگئی اور وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ساتویں روز بھی فسادات پھوٹ پڑے۔
امریکہ: احتجاج کو روکنے کے لیے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد فسادات میں مزید شدت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے فوج بھیجنے کے اصرار کے بعد فسادات میں مزید شدت آگئی۔

رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے چرچ جانے کا راستہ صاف کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے فوج بھیجنے کے بیان کے بعد احتجاج میں شدت آگئی اور وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں ساتویں روز بھی فسادات پھوٹ پڑے۔

مظاہرین نے لاس اینجلس میں ایک شاپنگ مال کو نذر آتش کیا اور نیویارک سٹی میں اسٹورز میں لوٹ مار کی۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشیدگی کے خاتمے تک میئرز اور گورنر قانون کی سخت عمل داری قائم کریں۔ امریکی صدر  کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شہر یا ریاست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے انکار کرے تو امریکا کی فوج تعینات کردوں گا اور ان کے مسائل فوراً حل ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ بیان جاری کرنے کے بعد اسی راستے سے سینٹ جانز چرچ پہنچے جس کو پولیس نے مظاہرین سے صاف کروایا تھا، انہوں نے بائبل کو اٹھائے اپنے بیٹی ایوانکا اور امریکی اٹارنی جنرل ولیم بار کے ہمراہ تصاویر بنوائیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم چرچ کے بشپ مائیکل کیوری بھی ٹرمپ کی جانب سے تاریخی چرچ کو تصاویر بنوانے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کرنے میں شامل ہوگئے۔

بشپ مائیکل کیوری نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر سینٹ جانز چرچ کے سامنے کھڑے ہوئے، بائبل اٹھائی اور اپنی تصاویر کھینچیں، اس طرح انہوں نے چرچ کی عمارت اور بائبل کو جانبدارانہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس