تاریخ شائع کریں۱۲ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۲۳
خبر کا کوڈ : 464544

پاکستان : مئی کے مہینے میں 54 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بنے

پاکستان میں مئی کے مہینے میں 54 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بنے اور 11 سو سے زائد زندگی کی بازی ہار گئے
پاکستان : مئی کے مہینے میں 54 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بنے
رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں مئی کے مہینے میں 54 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار بنے اور 11 سو سے زائد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ مثبت نتیجے والے ٹیسٹس کی شرح میں بھی خاصہ اضافہ ہوا۔

این سی او سی کے مطابق 30 اپریل تک ملک میں وائرس کے سبب 385 اموات رپورٹ ہوئی تھیں جبکہ 16 ہزار 817 مریضوں میں سے سندھ میں 6 ہزار 53، پنجاب میں 6 ہزار 340، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 627، بلوچستان میں ایک ہزار 49، اسلام آباد میں 343، گلگت بلتستان میں 339 اور آزاد کشمیر میں 66 کیس سامنے آئے تھے۔

تاہم صرف ایک ماہ کے عرصے کے دوران صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ لہٰذا جون کے پہلے دن ملک میں کورونا وائرس کے 71 ہزار 276 کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز ہیں جن میں سے سندھ میں 28 ہزار 245، پنجاب میں 25 ہزار 56، خیبرپختونخوا میں 10 ہزار 27، بلوچستان میں 4 ہزار 393، آزاد کمشیر میں 255، گلگلت بلتستان میں 711 اور اسلام آباد میں 2 ہزار 586 مریض ہیں۔

اس ضمن میں والے این سی او سی کے اجلاس میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ وزارت صحت صورتحال پر قابو پانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں کے ریٹائرڈ ڈاکٹروں، ینگ ڈاکٹروں، ہاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹروں اور میڈیکل کے سال آخر میں زیر تعلیم طالبعلموں کو متحرک کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ نئے ڈاکٹرز اور طبی عملہ واک اِن انٹرویو کے ذریعے بھرتی کیا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبوں کو کمیونٹی موبلائزیشن یقینی بنانے کے علاوہ 15 جون تک اپنے علاقوں میں کال سینٹر بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ اور بلوچستان حکومتیں متاثرہ علاقوں میں سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بجائے گھر میں قرنطینہ کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ این سی او سی کے اجلاس میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ، وزیر تحفظ خوراک فخر امام، وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے شرکت کی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس