تاریخ شائع کریں۹ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۴:۴۸
خبر کا کوڈ : 464182

امریکی انتظامیہ منظم طریقے سے نسل پرستی کررہی ہے

ایران نے امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کے بہیمانہ قتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ منظم طریقے سے نسل پرستی کررہی ہے
امریکی انتظامیہ منظم طریقے سے نسل پرستی کررہی ہے
ایران نے امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کے بہیمانہ قتل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ منظم طریقے سے نسل پرستی کررہی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے اپنے ٹوئٹر پیج میں کہا کہ  سفید فام امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندے جورج فلوئڈ کا بہیمانہ قتل موجودہ انتظامیہ کی طرف سے منظم نسل پرستی اور سفید فام باشندوں کی بالادستی کا بھرپور مظاہرہ ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ، منیسوٹا کے مینیپولس سے تعلق رکھنے والا 40 سالہ سیاہ فام شخص جورج فلوئڈ پیر کے روز پولیس کی تشدد کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ جس کے بعد سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تاہم احتجاج کرنے والوں پر کیمیائی مواد کے حامل اسپرے کئے گئے لیکن اس کے باوجود امریکی ریاست مینے سوٹا کے اس شہر کی صورت حال بدستور بحرانی ہے جہاں پولیس کی جانب سے مظاہرین کی سرکوبی کے لئے ہر طرح کا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی تصاویر میں ایک سفید فام پولیس اہلکار ایک سیاہ فام امریکی شہری کو سڑک پر پیٹ کے بل لٹائے ایسی حالت میں دبوچے ہوئے ہے کہ اس پولیس اہلکار نے اس سیاہ فام امریکی شہری کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبا رکھا ہے اور یہ سیاہ فام امریکی شہری دم گھٹنے کی بنا پر بے بسی کے عالم میں اپنی زندگی بچانے کے لئے پانی مانگ رہا ہے۔

موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ رواں عیسوی سال کے پہلے چار مہینے میں امریکی پولیس کے تشدد کے نتیجے میں دو سو سے زائد امریکی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی عدالتیں بھی امریکی سیاہ فام شہریوں کے خلاف پولیس تشدد کو جرم نہیں سمجھتیں اور نہ ہی ان عدالتوں سے سیاہ فام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس اہلکاروں کو کوئی سزا دی جاتی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس