تاریخ شائع کریں۹ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۴:۱۸
خبر کا کوڈ : 464173
احمد کاظم زادہ

کیا تل ابیب سے معاہدوں پر عملدرآمد روک دینا ہی کافی ہے؟

اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم متنازعہ یہودی بستیوں کو مقبوضہ فلسطین سے ملحق کر کے دیگر بنیادی متنازعہ مسائل کو بھی پس پشت ڈالنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کر کے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مسئلہ فلسطین نامی کوئی تنازعہ سرے سے ہی وجود نہیں رکھتا۔
کیا تل ابیب سے معاہدوں پر عملدرآمد روک دینا ہی کافی ہے؟
 ان دنوں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں کو مقبوضہ فلسطین کی سرزمین سے ملحق کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ایشو نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے اور دنیا کی پہلی خبر بن چکا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے اکثر ممالک اس ممکنہ اقدام پر اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ مغربی کنارے کا علاقہ انتہائی سرسبز و شاداب اور زرخیز ہے اور بہت زیادہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ اس علاقے میں اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے یہودی بستیاں تعمیر کر رکھی ہیں۔ یہ بستیاں شمال سے جنوب کی جانب تین مختلف لائنوں میں تعمیر کی گئی ہیں اور ہر حصے کا علیحدہ سکیورٹی سسٹم بنایا گیا ہے۔ اسی طرح ان یہودی بستیوں نے چاروں طرف سے قدس شریف کو مکمل طور پر اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مختلف قسم کے بنیادی تنازعات پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک یہ یہودی بستیاں ہیں۔ دیگر بنیادی تنازعات میں سرحدی مسائل، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جلاوطن افراد کی وطن واپسی، قدس شریف اور پانی کی تقسیم شامل ہیں۔

اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم متنازعہ یہودی بستیوں کو مقبوضہ فلسطین سے ملحق کر کے دیگر بنیادی متنازعہ مسائل کو بھی پس پشت ڈالنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی حکومت مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کر کے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مسئلہ فلسطین نامی کوئی تنازعہ سرے سے ہی وجود نہیں رکھتا۔ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیوں کو 1948ء کی فلسطینی سرزمین کے ساتھ ملحق کر کے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اپنے رقبے میں اضافہ کرنے کے درپے ہے۔ یوں مستقبل میں آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ہمیشہ کیلئے ختم ہو کر رہ جائے گا کیونکہ غزہ کی پٹی کا علاقہ پوری فلسطینی سرزمین کا بیس فیصد حصہ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی کنارے میں واقع یہودی بستیاں فلسطینی حاکمیت کے اجرا میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہیں۔ ان یہودی بستیوں نے فلسطینی سرزمین کی سالمیت خطرے میں ڈال دی ہے۔ دوسری طرف مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کر کے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم قدس شریف پر بھی مکمل طور پر قابض ہو جائے گی اور اسے ہمیشہ کیلئے اپنا دارالحکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس کے بعد کا مرحلہ مسجد اقصی اور بیت المقدس کی تخریب کی صورت میں ظاہر ہو گا۔

مزید برآں، مغربی کنارے کا مقبوضہ فلسطین کے ساتھ ملحق ہو جانے کی صورت میں نہ صرف جلاوطن فلسطینیوں کی وطن واپسی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ناممکن ہو جائے گی بلکہ فلسطینیوں کو ان کے گھر سے نکال باہر کرنے کا دوبارہ آغاز ہو جائے گا۔ مقبوضہ فلسطین کے ساتھ الحاق کی صورت میں مغربی کنارے میں مقیم 20 لاکھ فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہو جائے گی اور وہ شدت پسند صہیونیوں کے حملوں کا نشانہ بننا شروع ہو جائیں گے۔ اس طرح انہیں وہاں سے کوچ کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ چونکہ یہ خطرہ پایا جاتا ہے کہ مہاجرین کی یہ نئی لہر ہمسایہ ملک اردن کا رخ کرے گی لہذا اردن نے ابھی سے مقبوضہ فلسطین کے ساتھ مغربی کنارے کے الحاق کی شدید مخالفت شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے کو اپنے ساتھ ملحق کرنے کے فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی نظر میں امن مذاکرات صرف ایک ہتھکنڈہ تھا اور وہ ان مذاکرات کے ذریعے اپنے لئے مزید وقت خریدنے کے درپے تھا۔ اب فلسطین کے اندر اور باہر مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کے حصول کی کوششیں کرنے والے گروہوں کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ یہ طریقہ کار انتہائی بے سود اور غیر موثر ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، دیگر خلیجی ریاستیں اور شمالی افریقہ کے وہ ممالک جو اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے راگ الاپتے ہیں جان لیں کہ ان کا انجام بھی یہی ہو گا۔ اسرائیلی حکومت ان مسلمان ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو اپنے مذموم مقاصد آگے بڑھانے کیلئے بروئے کار لائے گی۔ یوں یہ ممالک بھی غاصب صہیونی رژیم کے انسان سوز مظالم میں برابر کی شریک قرار پائیں گے۔ مسلمان ممالک کو چاہئے کہ وہ فوراً اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر کے جہادی تنظیموں کا بھرپور ساتھ دیں۔ مغربی کنارے کو مقبوضہ فلسطین سے ملحق کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا قوتیں اس وقت انتہائی پیچیدہ صورتحال کا شکار ہیں۔ وہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے کیونکہ عین ممکن ہے آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ شکست کا شکار ہو جائیں۔ لہذا وہ اس مختصر مدت میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ لہذا فلسطین اتھارٹی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تمام معاہدے بالائے طاق رکھ کر ان پر عملدرآمد روک دینا اگرچہ ایک مثبت قدم ہے لیکن ہر گز کافی نہیں ہے۔ فلسطین اور قدس شریف کی بقا کو خطرے کے پیش نظر فلسطین اتھارٹی سے اسرائیل کے خلاف مزید وسیع اور موثر اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس