تاریخ شائع کریں۷ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۸:۱۵
خبر کا کوڈ : 464044

بھارتی پالیسیاں پڑوسی ممالک کے لئے خطرہ بنرہی ہیں

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فاشسٹ مودی حکومت نہ صرف بھارتی اقلیتوں بلکہ خطے کے لیے بھی خطرہ ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ بھارت، پاکستان پر مسلح حملے کی تیاری کررہا ہے۔
بھارتی پالیسیاں پڑوسی ممالک کے لئے خطرہ بنرہی ہیں
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کی ہندوتوا مودی حکومت، نازی علاقے کے مترادف اپنی متکبر توسیع پسند پالیسیوں سے پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو شہریت کے متنازع قانون سے خطرہ لاحق ہے، نیپال اور چین کے ساتھ بھارت کا سرحدی تنازع ہے اور پاکستان کو جعلی آپریشن کے خطرے کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا غیر قانونی قبضہ فورتھ جینیوا کنونشن کے تحت جنگی جرم ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ فاشسٹ مودی حکومت نہ صرف بھارتی اقلیتوں بلکہ خطے کے لیے بھی خطرہ ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا تھا کہ بھارت، پاکستان پر مسلح حملے کی تیاری کررہا ہے۔

علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے آئے دن لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی جاتی ہے جبکہ اس نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے یکطرفہ فیصلے کے بعد سے کشمیری عوام کو بھی محصور رکھا ہے۔

یہی نہیں بلکہ بھارتی سرحدی محافظین نے حال ہی میں ایک اور ’پاکستانی جاسوس کبوتر‘ پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا جسے مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ’کبوتر کے اوپر گلابی رنگ کا واضح نشان اور ایک ٹانگ پر ٹیگ لگا ہوا تھا‘ جسے ’مشتبہ پاکستانی جاسوس‘ کے طور پر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کبوتر کو مشتبہ طور پر ’پاکستان کی جانب سے جاسوسی کی کوشش‘ کہا جارہا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحدی تنازع پر کشیدگی جاری ہے جس سے متعلق مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی نئی سڑکوں اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی وجہ سے سامنے آئی۔

نئی دہلی میں بھارتی حکام نے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چین کی جانب تقریباً 80 سے 100 ٹینٹ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بھارت کی جانب 60 ٹینٹس لگائے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ دونوں اپنے دفاع کی تیاری کر رہے ہیں اور چینی ٹرکز علاقے میں آلات کی نقل و حرکت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے آمنا سامنا ہونے کی تشویش بڑھ رہی ہے۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’چین اپنی علاقائی خود مختاری کا تحفظ سمیت چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سرحدی علاقوں میں صورتحال مستحکم ہے، سرحدی امور پر بات چیت کے لیے میکانزم موجود ہے اور دونوں اطراف متعلقہ امور ڈائیلاگ اور مشاورت سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

اس سے قبل 10 مئی کو بھارت اور چین کے سرحدی علاقے سکم پر تعینات دونوں ممالک کے محافظوں کے مابین جھڑپ کے نتیجے میں متعدد فوجی زخمی ہوگئے تھے۔

اس حوالے سے رپورٹس میں بھارتی میڈیا کا حوالے دے کر بتایا گیا کہ سرحدی ریاست سکم میں ناکولا سیکٹر کے قریب جھڑپ ہوئی جس میں 7 چینی اور 4 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد 3 ہزار 400 کلومیٹر (2،100 میل) ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcbaabaarhb0gp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس