تاریخ شائع کریں۵ خرداد ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۰:۰۵
خبر کا کوڈ : 463857

ونیزوئیلا تنہا نہیں ہے بلکہ اسک نڈر دوست اسکے ساتھ کھڑے ہیں

فارس نیوز کے مطابق ونیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنے ملک کے ساحل پر ایرانی آئل ٹینکروں کے لنگر انداز ہونے کے بعد ایران کی حکومت و عوام کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ونیزوئیلا تنہا نہیں ہے بلکہ اسکے شجاع اور نڈر دوست اسکے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ونیزوئیلا تنہا نہیں ہے بلکہ اسک نڈر دوست اسکے ساتھ کھڑے ہیں
ونیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے اسلامی جمہوریہ ایران کی قدردانی کی ہے۔

فارس نیوز کے مطابق ونیزوئیلا کے صدر نکولس مادورو نے اپنے ملک کے ساحل پر ایرانی آئل ٹینکروں کے لنگر انداز ہونے کے بعد ایران کی حکومت و عوام کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ ونیزوئیلا تنہا نہیں ہے بلکہ اسکے شجاع اور نڈر دوست اسکے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

 ونیزوئیلا کے صدر نے کورونا کمانڈ اینڈ کنٹرول قومی کمیٹی کے اراکین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور  ونیزوئیلا امن و صلح کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کو آزاد سمندر میں اقتصادی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق ہے۔ اسی کے ساتھ نیکولس مادورو نے تیل بھیجنے پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایرانی آئل ٹینکر فارچون کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ماہ رمضان کے مبارک اختتام پر فارچون آئل ٹینکر کی شکل میں ہمیں تحفہ ملا ہے۔ نیکولس مادورو نے لکھا کہ ایسے حالات میں کہ جب سامراجی طاقتیں اپنے خواہشیں دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کررہی ہیں، دوستی اور برادری ہی اقوام کو نجات دلا سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران نے امریکہ کی اقتصادی پابندیوں سے روبرو ونزوئلا کے لئے پانچ آئل ٹینکروں کے ذریعے ایندھن بھیجا ہے جن میں سے اس وقت فارچون اور فارسٹ ونزوئلا کے ساحل پر لنگر انداز ہو چکا ہے جبکہ باقی تین آئل ٹینکر ونزوئلا کے سمندری حدود کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے چودہ مئی کو دھمکی دی تھی کہ وہ ایران سے وینزویلا کے لئے تیل کی منتقلی کے معاملے کا جائزہ اور اس کے خلاف مناسب اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں ونیزویلا کے مستقل مندوب نے بھی کہا تھا کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ وہ تیل لانے والے پانچ ایرانی بحری جہازوں کا راستہ روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرے گا۔ امریکہ کی اس دھمکی پر ایران نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سمندر قزاقی سے تعبیر اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے کوئی غلط قدم اٹھانے کی کوشش کی تو اُس کا سخت جواب دیا جائے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس