تاریخ شائع کریں۲۹ ارديبهشت ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۵۸
خبر کا کوڈ : 463049

فلسطینیوں کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت

اسرائیل میں نئی مخلوط حکومت کے قیام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تحریک حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو نئی صیہونی کابینہ کے قیام کے معاملے سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اپنی سرزمین اور مقدسات کی مکمل آزادی تک جائز اور قانونی تحریک جاری رکھیں گے
فلسطینیوں کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت
حماس نے صیہونی حکومت کے اقدامات کے مقابلے کے لیے فلسطینیوں کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسرائیل میں نئی مخلوط حکومت کے قیام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تحریک حماس نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو نئی صیہونی کابینہ کے قیام کے معاملے سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اپنی سرزمین اور مقدسات کی مکمل آزادی تک جائز اور قانونی تحریک جاری رکھیں گے۔

حماس نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں جب نئی صہیونی حکومت غرب اردن کے مزید علاقوں کو ہڑپ کرنے کا اعلان کر چکی ہے، فلسطینی عوام کو پوری قوت کے ساتھ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کی پارلیمنٹ نے بن یامین نتن یاہو اور بنی گینتز کی مخلوط حکومت کو اعتماد کا ووٹ دے دیا ہے۔نتن یاہو نے کابینہ کے ارکان کی تقریب حلف برداری کے بعد ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینی علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوشش کریں گے جس کے تحت وادی اردن کو سب سے پہلے اسرائیل کا حصہ بنایا جائے گا۔

نئی مخلوط حکومت کے فارمولے کے تحت نتن یاہو نومبر دو ہزار اکیس میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم ہوں گے اس کے بعد بنی گنیتز وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالیں گے جو اس وقت وزیر جنگ ہیں-
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس