تاریخ شائع کریں۲۵ ارديبهشت ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۱۷
خبر کا کوڈ : 462571

پاکستان کے تین صوبوں میں یوم علی ع کے جلوسوں پر پابندی

کووِڈ 19 کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر 21 رمضان المبارک کو یوم شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران کسی قسم کے جلوس کی اجازت نہ دینے کا حکم جاری کردیا گیا ہے
پاکستان کے تین صوبوں میں یوم علی ع کے جلوسوں پر پابندی
پاکستان کے تین صوبوں پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے کووِڈ 19 کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر 21 رمضان المبارک کو یوم شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر جلوسوں پر مکمل پابندی عائد کردی جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران کسی قسم کے جلوس کی اجازت نہ دینے کا حکم جاری کردیا گیا۔

تاہم صوبائی حکومتوں نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کے ساتھ چار دیواری کے اندر تعزیتی اجتماعات (مجالس) کی اجازت دی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں صوبے میں یومِ علیؓ کے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اسی طرح حکومت خیبرپختونخوا کے ریلیف ری ہیبلیٹیشن ڈپارٹمنٹ سے جاری نوٹفکیشن میں کہا گیا کہ کووِڈ 19 کے سلسلے میں نافذ ایمرجنسی کے تحت مذہبی سمیت ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

دوسری جانب حکومت بلوچستان کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت بلوچستان نے صوبے میں ہر قسم کے مذہبی جلوسوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی کسی مذہبی جلوس کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔

اعلامیے کے مطابق تمام علمائے اہل تشیع کو کووِڈ 19 کے کیسز میں اضافے سے آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ یومِ علی کے جلوسوں سے گریز کیا جائے۔ تاہم پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکومت اور علمائے کرام کے متفقہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرتے ہوئے چار دیواری کے اندر مجالس کی اجازت ہوگی۔

حکام کے مطابق ایس او پیز کے تحت عزادار سماجی فاصلہ برقرار رکھیں گے اور مجلس کے دوران قالینوں پر نشست نہیں ہوگی جبکہ مجلس بھی ایک گھنٹے سے زیادہ جاری نہیں رہے گی تاہم اگر زمین پر پکا فرش نہ ہو تو قالین استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

حکومتی ہدایات کے مطابق منتظم تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے پابند ہوں گے اور کسی بچے یا ضعیف کو مجلس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں حکومت نے امام بارگاہوں اور دیگر مقامات جہاں یومِ علیؓ سے متعلق اجتماعات ہوں وہاں سخت سیکیورٹی کا بھی حکم دیا۔

قبل ازیں وفاقی حکومت نے 9 مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز پر عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کو مراسلہ ارسال کیا تھا۔ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ رمضان المبارک اور تراویح کے لیے متفقہ 20 نکاتی ایس او پیز کا اطلاق نہ صرف رمضان کے آخری عشرے بلکہ نماز عید پر بھی ہوگا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ رمضان کے آخری عشرے اور عید کے تعطیلات کے دوران وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کی رہنما ہدایات پر عمل کیا جائے۔

وفاقی حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 مئی کے بعد لاک ڈاون کے حوالے سے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
ساتھ ہی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ رمضان کے آخری عشرے میں یوم علیؓ سمیت کسی قسم کا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس