تاریخ شائع کریں۲۵ ارديبهشت ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۱۲
خبر کا کوڈ : 462569

کشمیر میں رمضان المبارک میں بھی بھارتی قابض فوج کے مظالم جاری

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ہزاروں کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن اور براہ راست اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے، بھارت اپنی بربریت سے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا۔
کشمیر میں رمضان المبارک میں بھی بھارتی قابض فوج کے مظالم جاری
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مقدس مہینے رمضان المبارک میں بھی بھارتی قابض فوج کے مظالم جاری ہیں اور صحافیوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال 5 اگست سے اب تک بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی 90 لاکھ آبادی پر مظالم جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جہاں دنیا کرونا وائرس سے نبرد آزما ہے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے ہزاروں کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن اور براہ راست اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے، بھارت اپنی بربریت سے کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو دبا نہیں سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس واچ رپورٹ کے مطابق بھارت میں نفرت آمیز تقاریر میں اضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ بھارتی میڈیا نے ہیش ٹیگ کورونا جہاد کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔

خیال رہے کہ 3 مئی کو بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کی جانب سے شروع کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ حملے میں کرنل سمیت 5 بھارتی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہنڈوارہ میں رجواڑ کے مقام پر پولیس کی جانب سے مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا تھا تاہم اس دوران ہونے والے حملے میں بھارتی فوج کے کرنل، میجر سمیت 5 اہلکار ہلاک ہوگئے، جن کی شناخت کرنل آشوتوش شرما، میجر انوج، لانس نائیک، رائفل مین اور پولیس سب انسپکٹر شکیل قاضی کے ناموں سے ہوئی تھی۔

مخلوط اسرائیلی حکومت کے فلسطینی علاقوں کو زم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اسرائیل کی طرف سے علاقوں کو زم کرنے کا اقدام عالمی قانون کی خلاف ورزی ہو گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارہ فلسطینی علاقے ہیں، پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967 کے سرحدی نقشے پر مشتمل آزاد فلسطین کا حامی ہے، جموں کشمیر اور فلسطین یو این ایجنڈے پر سب سے پرانے ایشوز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 50 سال سے زائد کے عرصے سے مغربی کنارہ اسرائیل کے قبضے میں ہے جہاں وہ وقتاً فوقتاً آبادکاریوں کا اعلان کر رہا ہے۔

اسرائیل کی ان آباد کاریوں کی وجہ سے فلسطین کے پاس کچھ ہی علاقہ باقی رہ جائے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس