تاریخ شائع کریں۳۱ فروردين ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۳:۳۲
خبر کا کوڈ : 459492

امریکہ اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف دوسرے ممالک کو اکسانا چاہتا ہے

امریکی وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کے دعوے پر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا
امریکی وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کے دعوے پر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات ایرانی عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی کے تسلسل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے
امریکہ اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف دوسرے ممالک کو اکسانا چاہتا ہے
امریکی وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کے دعوے پر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے بیانات ایرانی عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی کے تسلسل سے توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے اتوار کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں ایرانی عوام کے خلاف جاری اقتصادی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی امریکی کوشش کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اس بار امریکہ، سلامتی کونسل سے، قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرنے اور ایران پر ہتھیاروں کی پابندی کو جاری رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ دوسروں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کیلئے اکسانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ہفتہ کے روز اپنے ایک ٹوئیٹ میں ہرزہ سرائیکرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس سے پہلے کہ ایران مشرق وسطی میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا آغاز کرے، سلامتی کونسل کو اسلحہ کی پابندی میں توسیع کرنی ہوگی۔
ہتھیاروں کے تعلق سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی 2006 اور 2007 میں عائد کی گئی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کو اسلحہ کی فروخت اور ایران سے اسلحہ کی برآمد پر پابندی ہو گی۔
جوہری معاہدے پر اتفاق کے بعد طے پایا تھا کہ یہ پابندیاں 18 اکتوبر 2020 کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی ایران کے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کے بعد ہٹا دی جائیں گی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس