تاریخ شائع کریں۹ فروردين ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۱:۴۳
خبر کا کوڈ : 456704

امریکی حکام ایرانی سائینسدان کو جیل میں ماسک اور سینیٹائزر استعمال کی اجازت نہیں دے رہے

امریکہ نے ایرانی سائنسدانوں کو پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے بیہودہ الزام میں یرغمال بنا رکھا ہے
امریکی حکومت نے کورونا کے بحران میں بھی ایرانی سائنسدانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس بحرانی صورتحال میں بھی انھیں طبی بنیادوں پر چھٹی نہیں دے رہی ہے
امریکی حکام ایرانی سائینسدان کو جیل میں ماسک اور سینیٹائزر استعمال کی اجازت نہیں دے رہے
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے کورونا کے بحران میں بھی ایرانی سائنسدانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس بحرانی صورتحال میں بھی انھیں طبی بنیادوں پر چھٹی نہیں دے رہی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ امریکہ نے ایرانی سائنسدانوں کو پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے بیہودہ الزام میں یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ اپنے ملک کی عدلیہ کی جانب سے الزامات مسترد کئے جانے کے باوجود انھیں رہا نہیں کر رہی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا پھیل جانے کے باوجود، امریکی حکومت بے گناہ انسانوں کو خوفناک عقوبت خانوں سے طبی بنیادوں پر رہا نہیں کر رہی ہے۔
جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں امریکہ میں قید ایرانی سائنسداں سیروس عسگری کی صورت حال کے بارے میں روزنامہ گارڈین کی رپورٹ کو لینک دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے ہم وطنوں کو رہا کرو۔
امریکی امیگریشین کی قید میں موجود ایرانی سائنسداں سیروس عسگری نے روزنامہ گارڈین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جیل کے ذمہ داران جان بوجھ کر قیدیوں کو ماسک اور سینیٹائزر جیسے وسائل دینے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت اپنے اس اقدام سے قیدیوں کو کورونا میں مبتلا کرکے انہیں مار دینا چاہتی ہے۔
روزنامہ گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر سیروس عسگری، ایران پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام سے بری ہونے کے باوجود امریکہ کے ادارہ ایمیگریشن کےعقوبت خانے میں قید ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس