تاریخ شائع کریں۶ فروردين ۱۳۹۹ گھنٹہ ۱۷:۱۱
خبر کا کوڈ : 456366

مسلمانوں کے درمیان وحدت کے فروغ میں شھید سردار قاسم سلیمانی کا نمایا کردار

یونیورسٹی برای علوم مذاہب میں اہلسنت استاد" عثمان سالاری " نے تقریب کے خبرنگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "
شھید سردار قاسم سلیمانی نے ایران اور منطقے میں موجود مستضعف اور مظلوم اہلسنت مسلمانوں کی حمایت کے لیے بہت سی خدمات انجام دی ہیں۔ دلوں کے سردار شھید سردار قاسم سلیمانی بارھا کہا کرتے تھے کہ ہماری جانیں اہلسنت بھائیوں کے حفاظت کے لیے ہیں
مسلمانوں کے درمیان وحدت کے فروغ میں شھید سردار قاسم سلیمانی کا نمایا کردار
مسلمانوں کے درمیان وحدت کے فروغ میں شھید سردار قاسم سلیمانی کا نمایا کردار
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یونیورسٹی برای مذہبی علوم کی علمی انجمن کے رکن اور اہلسنت استاد " حامد رستمی نجف آبادی" اور یونیورسٹی برای علوم مذاہب میں اہلسنت استاد" عثمان سالاری " نے تقریب کے خبرنگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا " شھید سردار قاسم سلیمانی نے ایران اور منطقے میں موجود مستضعف اور مظلوم اہلسنت مسلمانوں کی حمایت کے لیے بہت سی خدمات انجام دی ہیں۔ دلوں کے سردار شھید سردار قاسم سلیمانی بارھا کہا کرتے تھے کہ ہماری جانیں اہلسنت بھائیوں کے حفاظت کے لیے ہیں اور ہماری جانیں ہر بلا کے مقابلے میں برادران اہلسنت کی ڈھال ہیں۔ شھید نے صہیونی طاقتوں کے خلاف مسلمانوں کو متحد کیا اور استکبار سے مقابلے کے لیے تمام تر تعاون فراھم کیا۔ نہ صرف مدد فراہم کی بلکہ دشمن اسلام اور صہیونی طاقتوں سے مقابلے کو ایک ثقافت میں تبدیل کردیا۔
سالاری نے میزد کہا کہ ، شھید قاسم سلیمانی کا وجود خوف اور عشق خدا میں غرق ہوچکا تھا، یہی عشق اور خوف خدا باعث بنا کے لاکھوں انسانوں کے دل ان کی محبت سے سرشار ہوگئے"۔
 
حامد رستمی نجف آبادی نے کہا "  قاسم سلیمانی عالم اسلام کا فخر تھے اور ان کی شھادت اسلام اور مسلمانوں کے درمیان نئی جان ڈال دی ہے۔ درحقیقت ان کی شھادت دشمنان اسلام کے خلاف استقامت اور مقاومت کا نکتہ آغاز ہے۔ شھید سردار قاسم سلیمانی کی مراسم تشیع قوم و ملت کے درمیان حقیقی اتحاد اور وحدت کا مظھر تھی۔ تھران میں ہر قوم و مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد جمع تھے۔ شھید کے لیے جو پروگرام مشھد قم، تھران میں انجام دیے گئے وہی پروگرام سیستان و بلوچستان میں بھی انجام دیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا ، سیستان و بلوچستان اور خراسان جنوبی میں مختلف اہل تسنن مساجد میں بھی شھید کی یاد میں پروگرام کا انعقاد کیے گئے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی جس قدر آج کے زمانے میں ضرورت ہے اس سے قبل کسی زمانے میں نہیں تھی۔ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اور مسلمانوں کے ترقی کے لیے وحدت اثاثی عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
دشمن اسلام مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنے کے لیے تمام تر وسائل کو استعمال کررہا ہے اور شیعہ اور سنی دونوں مذہاب کے مانے والوں میں اپنے ایجنٹ قرار دیے ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں۔ ایک تکفیری فکر ہے تو دوسری جانب افراطی فکر یہ دونوں ہی اسلام کے لیے خطرہ ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ان تمام تر مشکلات کو حل کرسکتا ہے۔
مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو برقرار کرنے کے لیے بزرگ علماء جن میں علماہ محمد تقی قمی، امام موسی صدر، سید جمال الدین اسد آبادی، شیخ محمود شلتوت وغیرہ کی سیرت کو بیان کیے جانے کی ضرورت ہے جنہوں نے مسلمانوں کے درمیان ھمیشہ ہی وحدت کو فروغ دیا ہے۔ اس مقصدکے حصول کے لیے ٹی وی پروگرامز تشکیل دیے جانے چاہیے جن  میں مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے اشترکات کو بیان کیا جانا چاہیے۔
http://www.taghribnews.com/vdcjmmexmuqeitz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس