تاریخ شائع کریں۵ فروردين ۱۳۹۹ گھنٹہ ۲۱:۵۲
خبر کا کوڈ : 456286

دنیا کو درپیش خطرناک صورتحال میں بھی یمن میں جارحیت کا سلسلہ جاری ہے

وزارت خارجہ نے منگل کو جنگ یمن کے پانچ سال پورے ہونے اور اس جنگ کے چھٹیں سال میں داخل ہونے پر ایک بیان میں کہا
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن پر سعودی اتحاد کے جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، یمن میں ایک اور شکست کا مزہ چکھے کا اور منہ کی کھا کر یمن سے بھی نکلے گا
دنیا کو درپیش خطرناک صورتحال میں بھی یمن میں جارحیت کا سلسلہ جاری ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے یمن پر سعودی اتحاد کے جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، یمن میں ایک اور شکست کا مزہ چکھے گا اور منہ کی کھا کر یمن سے بھی نکلے گا۔
وزارت خارجہ نے منگل کو جنگ یمن کے پانچ سال پورے ہونے اور اس جنگ کے چھٹیں سال میں داخل ہونے پر ایک بیان میں کہا کہ یمن پر فوجی جارحیت ایسی حالت میں جاری ہے کہ امریکا اور کچھ دیگر ممالک نے نہ صرف یہ کہ جارح اتحاد کے جنگی جرائم پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں بلکہ بدستور ہتھیاروں کو فروخت کرکے، اطلاعات کے تبادلے اور جارح قوتوں کی حمایت کرکے ان جرائم میں شریک ہیں اور ان کو اس کا جواب دینا ہوگا۔
اس بیان میں آیا ہے کہ امریکا نے یمن کے مختلف علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر اس ملک میں اپنی حکمت عملی سے پردہ اٹھایا ہے اور یمن میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔
وزارت خارجہ کے کہا امریکا نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقے کے جس ملک میں بھی اس کی موجودگی ہوئی وہاں نا امنی اور اس ملک کے سرمایہ کی لوٹ پاٹ کے علاوہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی تنظیموں اور اداروں نے تائید کی ہے کہ یمن کی 80 فیصد آبادی یعنی تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار یمنی خواتین اور بچوں کو انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔  
بیان میں کہا گیا ہے کہ ظالمانہ اور غیر انسانی پابندیوں اور جرائم کی وجہ سے یمن میں المیہ پیدا ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر صدی کا سب سے بڑا المیہ اس ملک میں رونما ہو گیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس