تاریخ شائع کریں۲۵ اسفند ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۲۱
خبر کا کوڈ : 455166

رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں مسلمانوں کے درمیان وحدت کی اہمیت

مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی اہمیت پر زور دیا ہے اور اس سلسلے میں آپ کے بیانات میں چند نکات پیش کیے جارہے ہیں۔
اگر مسلمان متحد ہوتے تو فلسطین کی حالت یہ نہ ہوتی، بوسنیا ، کشمیر اور تاجکستان بھی ایسا نہیں ہوتا۔ یورپ کے مسلمانوں کو مشکلات میں زندگی نہیں گذارنی پڑتی اور امریکہ کے مسلمانوں کو زور زبردستی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑت
رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں مسلمانوں کے درمیان وحدت کی اہمیت
رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں مسلمانوں کے درمیان وحدت کی اہمیت
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آٰیت اللہ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) نے ھمیشہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی اہمیت پر زور دیا ہے اور اس سلسلے میں آپ کے بیانات میں چند نکات پیش کیے جارہے ہیں۔
آپ ہمیشہ ہی تاکید کرتے آرہے ہیں کہ " وہ افراد جن کے اختیار میں قلم و تحریر اور سخن و تقریر ہیں ان کا محتاط انداز میں ذمہ داریوں کو انجام دیں۔  تمام تر تاکید صرف اس لیے ہے کہ ان کام سے دشمن استفادہ نہ کرسکے۔(۳/۴/۱۳۶۸)
ملت ایران کو اختلاف اور تفرقہ کے سوا کوئی دوسری چیز نقصان نہیں پہچا سکتی، کسی بھی قوم ، ملت اور تمدن کے لیے تفرقہ کے سوا کوئی دوسری چیز مھلک نہیں ہے۔
اگر مسلمان متحد ہوتے تو فلسطین کی حالت یہ نہ ہوتی، بوسنیا ، کشمیر اور تاجکستان بھی ایسا نہیں ہوتا۔ یورپ کے مسلمانوں کو مشکلات میں زندگی نہیں گذارنی پڑتی اور امریکہ کے مسلمانوں کو زور زبردستی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ ان تمام مشکلات کی جڑ تفرقہ اور اختلاف ہے۔ ۱۴/۶/۱۳۷۲)
مسلمانوں کے درمیان موجود تمام تر علمی اور فکری اثاثوں کی نابودی کی اصل وجہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ہیں جس نے مسلمانوں کی صلاحیتوں کو ختم کردیا۔ ۱۰/۱۱/۱۳۹۱)
آج کے زمانے میں کسی بھی زمانے کی نسبت وحدت اور اتحاد کی ضرورت ہے کیوں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہمیشہ سے ہی دشمن کا سب اہم ہتھیار رہا ہے۔ ترقی و پیشرفت کے لیے آج کسی بھی زمانے سے زیادہ وحدت کی ضرورت ہے۔ دشمن کے ایجنٹ اور گھس بیٹھیوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے درمان تفرقہ ایجاد کرتے ہیں۔ جہاں سے بھی تفرقہ کی صدا بلند ہو سمجھ جائے دشمن کا کام ہے چاہے وہ خود اس بات کو نہیں سمجھتا ہے۔ (۵/۷/۱۳۶۸)
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس