تاریخ شائع کریں۹ اسفند ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۰۳
خبر کا کوڈ : 453054

روس نے شام میں ترکی جارحیت کے خاتمے کیلیے بحری جہاز روانہ کردیے

روس کے دو بحری جہاز جو کروز میزائلوں سے لیس ہیں آبنائے باسفور سے شام کے ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
شام کے صوبہ ادلب میں شامی اور روسی افواج کے ساتھ ترک فوج کی کشیدگی کے بعد کروز میزائلوں سے لیس روس کے دو بحری جنگی جہاز بحیرہ روم میں شام کے ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ شام کے صوبہ ادلب میں شامی اور روسی افواج کے ساتھ ترک فوج کی کشیدگی کے بعد کروز میزائلوں سے لیس روس کے دو بحری جنگی جہاز بحیرہ روم میں شام کے ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
روس نے شام میں ترکی جارحیت کے خاتمے کیلیے بحری جہاز روانہ کردیے
شام کے صوبہ ادلب میں شامی اور روسی افواج کے ساتھ ترک فوج کی کشیدگی کے بعد کروز میزائلوں سے لیس روس کے دو بحری جنگی جہاز بحیرہ روم میں شام کے ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
بحیرہ اسود میں روسی بحریہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ ترکی کے قریب تعینات روس کے دو بحری جہاز جو کروز میزائلوں سے لیس ہیں آبنائے باسفور سے شام کے ساحلوں کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ روسی فوج کے یہ بحری جنگی جہاز ایک ایسے وقت روانہ ہوئے ہیں جب جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات شامی فضائیہ نے ادلب میں ترک فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کرکے دسیوں ترک فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ جس وقت شامی فضائیہ نے یہ حملہ کیا تھا اس وقت ترک فوجی دہشت گردوں کے ساتھ تھے۔ دوسری جانب نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ ترکی کی درخواست پر یہ تنظیم ہنگامی اجلاس کررہی ہے۔ شام کے علاقوں حلب اور ادلب میں شامی فوج دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہے جس کی ترکی نے مخالفت کی ہے اور اس نے شام کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ دمشق کا کہناہے کہ وہ انقرہ کو دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دےگا۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس