تاریخ شائع کریں۷ اسفند ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۲:۳۱
خبر کا کوڈ : 452885

بھارت کے مسلمان انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن چکے ہیں

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ ’مقبوضہ کشمیر آغاز تھا اب بھارت میں مقیم 20 کروڑ مسلمان نشانے پر ہیں
 سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ’جیسا کہ میں نے گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش گوئی کی تھی کہ ایک مرتبہ جن بوتل سے باہر آجائے گا تو خون ریزی شدید ہوجائے گی
بھارت کے مسلمان انتہا پسند ہندوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن چکے ہیں
 سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ’جیسا کہ میں نے گزشتہ برس اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش گوئی کی تھی کہ ایک مرتبہ جن بوتل سے باہر آجائے گا تو خون ریزی شدید ہوجائے گی‘۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے لکھا کہ ’مقبوضہ کشمیر آغاز تھا اب بھارت میں مقیم 20 کروڑ مسلمان نشانے پر ہیں‘۔
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج ہم بھارت میں دیکھ رہے ہیں کہ نازی نظریات سے متاثرہ راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے ایک ارب سے زائد آبادی والی جوہری ریاست پر قبضہ کرلیا ہے‘۔
اپنی ٹوئٹس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’جب بھی نفرت کی بنیاد پر نسل پرستانہ نظریات کا حامل گروہ غالب آتا ہے، قتل و غارت گری اور خونریزی کے دروازے کھل جاتے ہیں‘۔
ساتھ ہی وزیراعظم نے اپنے پیغام میں پاکستان میں موجود غیر مسلموں کے حوالے سے بھی عوام کو متنبہ کیا۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’میں عوام کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر کسی نے پاکستان میں غیر مسلم شہریوں یا ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا‘۔
وزیراعظم نے مزید لکھا کہ 'ہماری اقلیتی (برادری کے لوگ) اس ملک کے برابر کے شہری ہیں‘۔
خیال رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے مذہبی فسادات کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس