تاریخ شائع کریں۲ اسفند ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۵۴
خبر کا کوڈ : 452270

ترک فوج کی شام میں جارحیت کا سلسلہ جاری

شام اور ترکی کے درمیان جنگ اس وقت شروع ہوئی جب ترکی کے فوجیوں نے صوبہ ادلب کے مغرب میں شام کے فوجی اڈے پر گولہ باری
شام کے صوبہ ادلب کے مغرب میں شام اور ترکی کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اس درمیان روس کی وزارت دفاع نے بھی کہا ہےکہ روسی جنگی طیاروں نے شام میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے
ترک فوج کی شام میں جارحیت کا سلسلہ جاری
شام کے صوبہ ادلب کے مغرب میں شام اور ترکی کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اس درمیان روس کی وزارت دفاع نے بھی کہا ہےکہ روسی جنگی طیاروں نے شام میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے
شام اور ترکی کے درمیان جنگ اس وقت شروع ہوئی جب ترکی کے فوجیوں نے صوبہ ادلب کے مغرب میں شام کے فوجی اڈے پر گولہ باری کی جس پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شام نے بھی ترکی کے خلاف جوابی کارروائی کیترک فوج کے حملوں کے ساتھ ہی دہشت گردوں نے مشرقی ادلب میں واقع نیرب کالونی کے چھے مضافاتی علاقوں سے اس کالونی میں داخل ہونے کی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی ۔شامی فوج سے وابستہ ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ ان کارروائیوں میں ترکی کی حمایت یافتہ فری سیرین آرمی کے دہشتگردوں کے ساتھ جبھۃ النصرہ کے دہشتگرد بھی موجود تھے ۔ترک ذرائع ابلاغ نے بھی انقرہ کی جانب سے اسپیشل فورس اور کچھ ٹینک ادلب کے مضافات میں بھیجے جانے کی خبر دی ہے۔درایں اثنا شام کے قومی استقامتی محاذ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ترکی کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے جنگجو شام کی مسلح افواج کے حوالے کردے گا ۔ شام کے قومی استقامتی گروہ کے سربراہ اور کرد سیاستداں ریزان حدو نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اگر شام کی مسلح افواج کی کمان درخواست کرے تو ہم اپنی لاجسٹیک تیاری مکمل کر کے ترکی کی جارحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہزاروں جنگجو جوان بھرتی کر سکتے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ شام پر ترکی کے حملے کا اصلی مقصد شہر سراقب پر جو ابھی حال ہی میں دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد ہوا ہے اور نیرب کالونی پر قبضہ کرنا ہے۔ترکی اور شام کی فوجوں کے درمیان جنگ بڑھنے کے ساتھ ہی روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک کی فوج نے ادلب میں شامی فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ترکی کی فوج نے بھی ایک بیان جاری کر کے اعلان کیا ہے کہ روس کے جنگی طیاروں کی جانب سے ان علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں ترکی کے کم سے کم دو فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس