تاریخ شائع کریں۳۰ بهمن ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۰۷
خبر کا کوڈ : 452093

افغانستان، صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کا الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام

افغانستان کے الیکشن کمیشن نے منگل کے روز صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے موجودہ صدر اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا وہ اور انکی انتخابی ٹیم صدارتی انتخابات کے نتائج کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے زبردست خیانت کی ہے اور دھاندلی کرنے والوں کو تاریخ میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
افغانستان، صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کا الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام
افغانستان میں اٹھائیس ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر اشرف غنی کے اہم ترین حریف عبداللہ عبداللہ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی پر دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا وہ اور انکی انتخابی ٹیم صدارتی انتخابات کے نتائج کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے زبردست خیانت کی ہے اور دھاندلی کرنے والوں کو تاریخ میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن نے منگل کے روز صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے موجودہ صدر اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا ہے۔افغان الیکشن کمیشن کی سربراہ حوا علم نورستان نے کابل میں پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر اشرف غنی نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے پچاس اعشاریہ چھے چار فی صد(50/64) ووٹ حاصل کیے ہیں۔افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اصل مقابلہ موجودہ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے درمیان تھا۔افغانستان میں چھے ماہ قبل ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس کے ابتدائی نتائج کے اعلان کے فوراً بعد عبداللہ عبداللہ سمیت صدر اشرف غنی کے دیگر تمام حریفوں نے الیکشن کمیشن سے انتخابی عذرداریوں کی سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف بائیو میٹرک شناخت کے حامل ووٹوں کو ہی صحیح ووٹ سمجھا جانا چاہیے۔اگرچہ افغان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے تین لاکھ قابل اعتراض ووٹوں کے معاملے کا بغور جائزہ لیا ہے تاہم عبداللہ عبداللہ کی انتخابی ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شکایات کا جائزہ لیے بغیر نان بائیو میٹرک ووٹوں کو بھی حتمی نتائج شامل کرلیا ہے۔قبل ازیں افغانستان کے نائب صدر اور عبداللہ عبداللہ کی سرکردگی میں قائم انتخابی اتحاد کے ایک اہم رہنما جنرل عبدالرشید دوستم نے کہا تھا کہ اگر حتمی نتائج کے اعلان میں ابتدائی نتائج کو دہرایا گیا تو ہمارے پاس عبداللہ عبداللہ کی صدارت میں متوازی حکومت قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کئی طرح کے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔افغانستان کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے ملتی جلتی صورتحال سن دوہزار چودہ میں بھی پیش آچکی ہے جب اس وقت کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد مغربی ملکوں اور خاص طور سے امریکہ کو اپنے مفادات کی بنیاد پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقع ملا تھا۔سن دوہزار چودہ میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج پر عبداللہ عبداللہ کے ایسے ہی اعتراضات کے بعد امریکہ کی مداخلت اور تجویز پر قومی حکومت تشکیل دی گئی تھی لیکن حکومتی معاملات اور اعلا عہدیداروں کی تقرری اور معزولی کے بارے میں صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی وجہ سے یہ تجربہ اب تک ناکام رہا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس