تاریخ شائع کریں۴ بهمن ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۴۲
خبر کا کوڈ : 449081

نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو تقسیم کردیں گی

بھارت میں مودی سرکار کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر عالمی میڈیا کی جانب سے مودی کے فیصلوں پرشدید تنقید جاری ہے۔
بھارت میں شہریت سےمتعلق متنازع قوانین کو وہاں بسنے والے مسلمانوں کےخلاف قرار دیا گیا ہے۔ جریدے نےاپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تنگ نظر اور متعصب بھارت میں نریندر مودی کےفیصلوں سےتقسیم گہری ہو رہی ہے۔
نریندر مودی کی پالیسیاں بھارت کو تقسیم کردیں گی
بھارت میں مودی سرکار کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر عالمی میڈیا کی جانب سے مودی کے فیصلوں پرشدید تنقید جاری ہے۔
بین الاقوامی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مودی سرکار کے مسلمانوں کے خلاف اقدامات پر عالمی میڈیا کی جانب سے مودی کے فیصلوں پرشدید تنقید جاری ہے۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں مودی سرکار کے مسلمان مخالف فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے بھارت میں شہریت سےمتعلق متنازع قوانین کو وہاں بسنے والے مسلمانوں کےخلاف قرار دیا گیا ہے۔ جریدے نےاپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ تنگ نظر اور متعصب بھارت میں نریندر مودی کےفیصلوں سےتقسیم گہری ہو رہی ہے۔ جریدے میں بھارتی متنازع بیان سے پر بھی تنقید میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں نئے قانون کے تحت برصغیر سے تعلق رکھنےوالے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو شہریت دی جاسکے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں، اسی طرح بی جے پی کی حکومت نے ملک بھر میں رہنے والوں کو رجسٹر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ جریدے کے مطابق بظاہر یہ معاملہ تکنیکی ہے لیکن برسوں سےبھارت میں آباد بیس کروڑ مسلمانوں کے پاس خود کوبھارتی ثابت کرنے کے لیے کوئی کاغذ موجود نہیں۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے مطابق مسلمانوں کی تشویش اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کہ حکومت نےایسے کیمپس بنانےکا حکم دے دیا ہے جہاں شہریت ثابت نہ کرنے والوں کو رکھا جائے گا۔ جریدے کی رپورٹ کےمطابق حالیہ اقدامات بی جے پی کو انتخابی فائدہ تودے سکتے ہیں لیکن یہ بھارت کے لیے سیاسی زہر ثابت ہوں گے۔
رپورٹ میں بھارتی سپریم کورٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالت عوامی احتجاج پر بھی دھیان دے اورہمت دکھاتے ہوئےان اقدامات کو غیر آئینی قرار دے۔برطانوی جریدہ دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں بھارت میں حکومتی اقدامات کے خلاف بڑی تعداد میں احتجاج کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس