تاریخ شائع کریں۳۰ دی ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۳۲
خبر کا کوڈ : 448756

ٹرمپ کو مواخذے میں سازش کے ذریعے بچائے جانے کا امکان ہے

انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے جو ٹرمپ کے مواخذے کی جوڈیشری کمیٹی کے صدر بھی ہیں کہا
امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین نے ملک کے خفیہ اداروں پر صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق موثر دستاویزات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹرمپ کو مواخذے میں سازش کے ذریعے بچائے جانے کا امکان ہے
امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین نے ملک کے خفیہ اداروں پر صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق موثر دستاویزات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اتوار کے روز اے بی سی ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے ایوان نمائندگان کی انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے جو ٹرمپ کے مواخذے کی جوڈیشری کمیٹی کے صدر بھی ہیں کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ ملک کے انٹیلی جینس ادارے حکومت کے دباؤ سامنے جھک گئے ہیں۔انہوں نے خاص طور سے نیشنل انٹیلی جینس ایجنسی کا نام لیکر کہا کہ یہ ادارہ یوکرین گیٹ معاملے میں ضروری دستاویزات پیش کرنے سے مسلسل انکار کر رہا ہے، جو ملکی معاملات میں ہماری نظارتی ذمہ داریوں کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ہے۔ایڈم شیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ نیشنل انٹیلی جینس ایجنسی سینٹیروں کو لازمی دستاویزات فراہم کرنے سےگریزاں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ سی آئی اے نے بھی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حوالے سے یہی رویہ اپنا رکھا ہے۔ادھر سینیٹ میں اقلیتی دھڑے کے سربراہ چک شومر نے ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے میں حقائق تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹ پارٹی حقائق کی تہہ تک پہنچنا چاہتی ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔سینیٹ میں اقلیتی ڈیموکریٹ دھڑے کے سربراہ نے واضح کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق پیش کیے جانے والے شواہد اور دستاویزات کے بارے میں رائے شماری کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اب سینیٹ میں جائزے اور تحقیق کے لیے چار ری پبلکن ارکان کی رائے پر منحصر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ملکی آئین ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو ووٹ دیتے ہیں یا ٹرمپ کی اندھی حمایت کرکے حقائق کو چھپانے کی کوشش کر تے ہیں۔ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک میں اس وقت شدت پیدا ہوئی تھی جب ان کے اور یوکرین کے صدر کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونی مکالمے کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا جو یوکرین گیٹ کے نام سے مشہور ہے۔یوکرین گیٹ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پیلوسی نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ مواخذہ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔ سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز اکیس جنوری سے ہو گا جہاں حمکران جماعت ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔ڈیموکریٹ ارکان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے اب تک جتنے بھی اقدامات انجام دیے ہیں وہ امریکی آئین اور قانون کے منافی ہیں۔
 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس