تاریخ شائع کریں۲۴ دی ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۰۸
خبر کا کوڈ : 448200

قاسم سلیمانی کی زندگی میں امریکی سفارت خانوں کو فوری خطرہ نہیں تھا، سی این این

کوئی بھی امریکی عہدیدار جنرل سلیمانی کی دھمکیوں کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کی تائید نہیں کرتا۔
جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی توجیہ میں صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے برخلاف امریکی سفارت خانوں کی سیکورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی سفارت خانوں کو فوری خطرہ در پیش نہیں تھا
قاسم سلیمانی کی زندگی میں امریکی سفارت خانوں کو فوری خطرہ نہیں تھا، سی این این
کوئی بھی امریکی عہدیدار جنرل سلیمانی کی دھمکیوں کے بارے میں ٹرمپ کے دعوے کی تائید نہیں کرتا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی توجیہ میں صدر ٹرمپ کے دعوؤں کے برخلاف امریکی سفارت خانوں کی سیکورٹی حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی سفارت خانوں کو فوری خطرہ در پیش نہیں تھا۔ 
سی این این نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سیکورٹی افسر نے کہا ہے کہ اس سفارتخانے کو فوری طور پر کسی خطرے کی کوئی رپورٹ نہیں ملی تھی۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی سفارتخانے خاص طور سے مغربی ایشیا میں معمولا حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں لیکن کسی بھی سفارت خانے کے لئے کوئی سنگین یا فوری خطرہ موجود ہونے کی صورت میں امریکی وزارت خارجہ واضح طور پر سیکورٹی الرٹ جاری کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا ‏گیا ہے کہ ٹرمپ نے جن چار سفارت خانوں کے لئے خطرے کی بات کی ہے ان کے سلسلے میں اس طرح کا کوئی انتباہ یا الرٹ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ 
دوسری جانب ایم ایس این بی سی ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ ایسے قرائن و شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مواخذے کے خوف سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا فرمان جاری کیا ہے۔ 
ایم ایس این بی سی ٹی وی چینل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر منتج ہونے والے ڈرون حملے کے بارے میں وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ رپورٹ پر اب کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔   
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس