تاریخ شائع کریں۲۲ دی ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۱۲
خبر کا کوڈ : 447957

شہید سردار قاسم سلیمانی کا ۳۳ روزہ جنگ میں کلیدی کردار رہا

حاج قاسم سلیمانی لبنان پر مسلط کردہ اسرائیل کی 33 روزہ جنگ کے دوران بیروت میں موجود رہے
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی اورحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی مہندس کی شہادت کے ساتویں دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا
شہید سردار قاسم سلیمانی کا ۳۳ روزہ جنگ میں کلیدی کردار رہا
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی اورحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی مہندس کی شہادت کے ساتویں دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاج قاسم سلیمانی لبنان پر مسلط کردہ اسرائیل کی 33 روزہ جنگ کے دوران بیروت میں موجود رہے۔
بین الاقوامی خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شہید میجر جنرل قاسم سلیمانی اورحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی مہندس کی شہادت کے ساتویں دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاج قاسم سلیمانی لبنان پر مسلط کردہ اسرائیل کی 33 روزہ جنگ کے دوران بیروت میں موجود رہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم نے شہید قاسم سلیمانی کی عراق، شام ، لبنان ، فلسطین اور یمن میں عظیم اور بے لوث خدمات کے بارے میں سنا اور انھیں قریب سے مشاہدہ کیا۔ اور جو لوگ شہید قاسم سلیمانی کے ساتھ رہے ہیں وہ  اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کارنامے انجام دیئے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہمارا وظیفہ شہیدوں اور خاص طور پر شہید قاسم سلیمانی کی شہادت پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنا ہیں ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے وظائف پر عمل کرتے ہوئے اپنی جان ، جان آفریں گے حوالے کردی ، وہ دنیا ميں بھی سرافراز اور سربلند رہے اور آخرت میں بھی وہ کامیاب اور سربلند ہیں۔
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی نے اسلامی مزاحمت کے شجرہ طیبہ کو تن آور درخت میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمت کو اتنا مضبوط اور مستحکم کردیا کہ آج فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی تنظیمں اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔ اوراسلامی مزاحمت ہی وہ تنظیم ہے جس نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کی طاقت کا طلسم توڑ کر اسے شکست سے دوچار کردیا اور وہ کام کیا جو کئی عرب ممالک کی فوجیں نہیں کرسکی تھیں وہ اسلامی مزاحمت نے کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل آج اسلامی مزاحمت کی نسبت بہت کمزور ہوچکا ہے۔ اسرائیل کو صرف امریکہ اور اس کے بعض عرب اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ ان کی حمایت کے سہارے کھڑا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس