تاریخ شائع کریں۲۴ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۰۶
خبر کا کوڈ : 445217

برطانیہ سے علیحدگی کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کیا جانا چاہیے

اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے ایک بار پھر برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹورجن کا کہنا تھا کہ وزاعظم بورس جانسن حقائق پر توجہ مرکوز کریں اور یہ بات سرکاری طور پر تسلیم کرلیں
برطانیہ سے علیحدگی کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کیا جانا چاہیے
اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے ایک بار پھر برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔
نیوز ایجنسی رویٹرز کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹورجن کا کہنا تھا کہ وزاعظم بورس جانسن حقائق پر توجہ مرکوز کریں اور یہ بات سرکاری طور پر تسلیم کرلیں کہ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے ریفرنڈم کے دوبارہ انعقاد کا پروانہ حاصل کرلیا ہے۔اسٹورجن کا کہنا تھا کہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم پر واضح کردیا ہے کہ وہ اس بات کی پابند ہیں کہ اسکاٹش عوام کی خواہشات کے مطابق دوبارہ ریفرنڈم کرانے کاراستہ ہموار کریں۔اسکاٹش فرسٹ منسٹر نے جمعے کے روز بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسکاٹ لینڈ کی نیم خود مختار انتظامیہ عنقریب لندن سے مکمل خود مختاری کی تفصیلی دستاویز جاری کرے گی جس کے نتیجے میں انہیں دوبارہ ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت حاصل ہوجائے گی۔برطانیہ کے نو منتخب وزیراعظم بورس جانسن نے اسکاٹ لینڈ میں دوبارہ ریفرنڈم کرائے جانے کی مخالفت کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ بارہ دسمبر کو برطانیہ میں کرائے جانے والے عام انتخابات میں اسکاٹش نیشنل پارٹی ایس این پی نے اس علاقے کی انسٹھ میں سے اڑتالیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ بھاری علاقائی منڈیٹ ملنے کے بعد ہی اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے برطانیہ سے علیحدگی کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔اسکاٹش عوام نے اگرچہ سن دوہزار چودہ میں کرائے جانے والے ریفرنڈم میں برطانیہ سے علیحدگی کی مخالفت کی تھی تاہم وہ بریگزٹ کے حق میں نہیں اور یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس