تاریخ شائع کریں۱۹ آذر ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۵۲
خبر کا کوڈ : 444831

ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام سازش ہے

اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ تہران انسانی حقوق کو سیاسی مقاصد اور ایک حربے کےطور پر استعمال کئے جانے کے ہر اقدام کا مخالف ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ تہران انسانی حقوق کو سیاسی مقاصد اور ایک حربے کےطور پر استعمال کئے جانے کے ہر اقدام کا مخالف ہے۔
ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام سازش ہے
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ تہران انسانی حقوق کو سیاسی مقاصد اور ایک حربے کےطور پر استعمال کئے جانے کے ہر اقدام کا مخالف ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے سربراہ کے بیان کےجواب میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران آزاد و خود مختار ملکوں کے خلاف  انسانی حقوق کے معاملے کو سیاسی مقاصد اور ایک حربے کے طورپراستعمال کئے جانے کی مخالفت اور اس اقدام کی مذمت کرتا ہے۔
یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے اتوار کو اپنے ایک مداخلت پسندانہ بیان میں ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مظاہرین کے ساتھ تشدد آمیز طریقے سے پیش آنے کا الزام عائد کیا تھا۔
ترجمان وزارت خارجہ نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے نئے سربراہ کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان غلط معلومات کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق کی پاسداری اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اہم ترین اصول اور قومی سلامتی کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چالیس برسوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی کارکردگی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور انسانی حقوق کے معیاروں کو بلند رکھنے میں پوری طرح سے سنجیدہ رہا ہے اور عوامی مظاہرے اور اجتماعات کو بھی اسلامی جمہوریہ ایران عوام کاحق سمجھتا ہے۔
ترجمان  وزارت خارجہ نے یورپی یونین کونصیحت کی کہ وہ اپنے بعض ممبر اوراتحادی ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی،  ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں کی جانے والی کوتاہیوں اور امریکا کی ظالمانہ اور خودسرانہ پابندیوں کی وجہ سے آٹھ کروڑ ایرانی شہریوں کے حقوق کی پامالی پر  توجہ دے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس